تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 538
لفظ استعمال نہیں ہوا یہ لفظ مستعمل ہوجاتا۔مگر مسٹر فیلڈ نے اس حیرت کوبائیبل کے ایک قدیم یونانی نسخہ سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔نیز اس نسخہ میں خروج باب ۱۶آیت ۱۵کے الفاظ ’’من ‘‘ کی بجائے ’’کیا یہ من ہے ‘‘ کے الفاظ ہیں۔اور اگر یہ فرق صحیح تسلیم کر لیا جائے تو من خوراک کے معنوں میں درست ثابت ہوتاہے۔اور استفہام کے الفاظ کا علیحدہ موجود ہونا ثابت کردیتاہے کہ من کا لفظ اس جگہ استفہام کے طور پر استعمال نہیں ہوا تھا۔اس میںکوئی شبہ نہیںکہ عبرانی کا لفظ جو اس جگہ استعمال ہوا ہے اس کے معنے استفہام کے بھی ہوتے ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ لفظ بنی اسرائیل کی جلاوطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں ان معنوںمیں صرف عزراؔاور دانیال کی کتب میں استعمال ہوا ہے۔جلاوطنی سے پہلے کے زمانہ میں اس کا استعمال ان معنوںمیں نظر نہیںآتااور اس وجہ سے بعض اہل نظر نے اسے ارمیک قرار دیا ہے۔ہم جب اس لفظ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے تورات کے دوسرے مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ بےجان چیزوں کے متعلق سوال کرنے کا کیا طریق ہے تو وہاں ہمیں ایک ایسی بات مل جاتی ہے جو اس سوال کو ہمارے لئے قطعی طور پر حل کردیتی ہے اور وہ یہ کہ تورات میں جہاںبے جان چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا ہے وہاں ’’مَنہ ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے نہ کہ من کا اور جہاں جاندار چیزوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے وہاں ـ’’ذی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ خروج باب۴ آیت ۲میں ہے۔’’خداوند نے موسیٰ سے کہاکہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے اس نے کہا لاٹھی ‘‘ (آیت ۲) اس جگہ عبرانی میں لفظ ’’مَ زِہ ‘‘ ہے۔یعنی یہ کیا ہے۔یہ الفاظ عربی کے الفاظ ’’ماذا ‘‘ سے ملتے ہیں ’’م زہ ‘‘ کا یہ استعمال غیر معمولی ہے ورنہ احبار باب ۲۵ آیت ۲۰۔ا۔سیموئیل باب ۳ آیت ۱۷۔زبور باب ۱۲۰ آیت ۳ امثال باب ۳۰ آیت ۴ اور دیگر مقامات میں پرانی عبرانی زبان میں کیا کے لئے لفظ ’’ مَنہ‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔اس کے مقابلہ میںجاندار کے متعلق سوال کے موقع پر کون کے لئے پیدائش۱۸ / ۲۷ وپیدائش/ ۵ ۳۳ وخروج ۱۱ / ۱۵ اسموئیل ۱۰ / ۲۵ زبور۴/۶ وغیرہ عبرانی کالفظ ’’زی ‘‘ استعمال ہوا ہے اس فرق کو دیکھ کر صاف طورپر واضح ہو جاتا ہے کہ خروج باب ۱۶ میں جو ’’من ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ کیا کے معنوں میں نہیں۔کیونکہ پرانی عبرانی زبان میںکیاکے لئے ’’من ‘‘ نہیں بلکہ ’’منہ ‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جلاوطنی اور اس کے بعد کے زمانہ میں جب ’’من ‘‘ کا لفظ سوال کے لئے استعمال ہونے لگاتو اس سےبے جان نہیں بلکہ جاندار کے متعلق سوال کیا جاتاتھا جیسا کہ عربی زبان میں ہے۔چنانچہ عزرا ۵