تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 50
یہ چار مسائل ہیں جو اس امر پر غور کرتے ہوئے ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔پہلا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ آدم ؑ نے گناہ کیا تھا اس لئے تمام نسل انسانی گنہگار ہو گئی کیونکہ اسے آدم سے ورثہ میں گناہ ملا ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا آدم ؑ نے واقعہ میں گناہ کیا تھا اور آیا بائبل اور انجیل اس کی تصدیق کرتی ہے؟ اگر بائبل کے رو سے آدمؑ نے گناہ ہی نہیں کیا تو یہ سارا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں بائبل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آدم ؑنے گناہ نہیں کیا بلکہ بائبل سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے بھی گناہ نہیں کیا۔بلکہ اس سے بڑھ کر میں نے جب بائبل کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ گناہ نہ آدم نے کیا تھا نہ شیطان نے بلکہ نعوذ باللہ گناہ خالص خدا تعالیٰ کا تھا اس کا ثبوت میں ذیل میں پیش کرتا ہوں۔آدم ؑ کا واقعہ پیدائش کی کتاب میں بیان ہے (یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بائبل سے مراد وہ مجموعہ کتب ہے جو حضرت موسیٰ ؑسے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں کے حالات پر مشتمل ہے حضرت موسیٰ ؑ سے ملاکی نبی تک کے حالات کا جو حصہ ہے وہ پرانا عہد نامہ کہلاتا ہے اور حضرت مسیح اور ان کے حواریوں کے حالات پر جو حصہ مشتمل ہے وہ نیا عہد نامہ کہلاتا ہے یہودیوں کے نزدیک صرف پرانا عہد نامہ واجب العمل ہے لیکن عیسائیوں کے نزدیک پرانا اور نیا دونوں عہد نامے واجب العمل ہیں۔پرانے عہد نامہ میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کی پانچ کتابیں شامل ہیں۔ان میں سے پہلی کتاب پیدائش ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کا بھی ذکر ہے) پیدائش باب ۲ آیت ۸ تا ۱۰ میں لکھا ہے:۔’’ اور خداو ند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔اور خداوند خدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اگایا اور باغ کے بیچ میںحیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔‘‘ اس جگہ بائبل یہ بتاتی ہے کہ آدم ؑ کی پیدائش کے بعد خدا تعالیٰ نے عدن میں ایک باغ لگایا جس میں ہر قسم کے درخت اگائے اور اس باغ کے عین وسط میں حیات اور نیک و بد کی پہچان کا درخت لگایا یہ میںآگے چل کر بتائوں گا کہ نیک و بد کی پہچان کا درخت الگ تھا اور حیات کا درخت الگ۔یا دونوں ایک ہی تھے میرے نزدیک یہ دونوں ایک تھے لیکن بائبل اس بارہ میں مضطرب اور متردد ہے کہیں وہ ان دونوں کو ایک درخت بتاتی ہے اور کہیں دو بتاتی ہے۔