تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 49

بدی کرتا ہے تو ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔پھر جوں جوں وہ نیکیاں یا بدیاں کرتا چلا جاتا ہے۔ان سفید یا سیاہ نقطوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ ایک دن اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے یا اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اگر اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے تو وہ بدی سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اگر اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ نیکی سے محروم ہو جاتا ہے (تفسیر ابن جریر زیر آیت کلا بل ران علی قلوبہم۔تطفیف :۱۵) اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ انسان فطرت صحیحہ لے کر دنیا میں آتا ہے اور ایک لمبے عرصے تک اس کی فطرت صحیحہ قائم رہتی ہے جب اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اور نیکی اس پر غالب آ جاتی ہے تو بغیر کفارہ کے نجات پا جاتا ہے اور جب اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے او ربدی اس پر غالب آ جاتی ہے تو پھر کوئی کفارہ اسے فائدہ نہیںدے سکتا۔اس کے برخلاف مسیحیت یہ کہتی ہے کہ آدمؑ نے گناہ کیا اور اس کی وجہ سے اسے سزا دی گئی پھر اس کا گناہ ورثہ میں اس کی اولاد کو ملا۔اب انسان گناہ سے خود بخود نہیں بچ سکتا۔کیونکہ یہ اسے ورثہ میں ملا ہے۔اس کے لئے کفارہ کی ضرورت تھی جو مسیح نے پیش کیا۔اور انسان کا تمام گناہ اس نے اپنے سر پر اٹھالیا۔گویا مسیحی تعلیم کے مطابق انسان شیطان کا غلام بن کر پید ا ہوتا ہے او رپھر مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں شیطان کے پنجہ سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ مسیحیت کے اس عقیدہ سے تعلق رکھنے والے تمام امور کا قرآن کریم نے انکار کر دیا ہے۔قرآن کریم کے نزدیک نہ گناہ ورثہ میں ملا نہ انسان پیدائشی لحاظ سے گنہگار ہے اور نہ اس کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت ہے۔انسان کی فطرت پاکیزہ بنائی گئی ہے اور اس میں ترقی کی قابلیت رکھی گئی ہے یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کا محبوب بھی ہو سکتا ہے اور اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے تو اس عقیدہ کار د کیا ہے کیا خود بائبل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے؟ اگر بائبل بھی اس عقیدہ کی تصدیق نہیں کرتی تو پھر عیسائیوں کے لئے بھی اس عقیدہ کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیںرہتا۔اس بارہ میں اگر ہم غور کریں تو چار مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں۔۱۔یہ مسئلہ کہ انسان کو ورثہ میں گناہ ملا۔۲۔یہ مسئلہ کہ چونکہ انسان کو ورثہ میں گناہ ملا اس لئے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔۳۔یہ مسئلہ کہ انسان پاک نہیں ہو سکتاتھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ رحیم و کریم بھی ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے رحم و کرم کے ماتحت اس کے لئے کسی قربانی کی ضرورت تھی۔۴۔یہ مسئلہ کہ اس قربانی سے انسان حقیقتہً پاک ہو گیا ؟