تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 523

پر اسی طرح تھی جس طرح انگریز ایک مدت تک ہندوستان پرحکمران رہے ہیں۔اس لئے اس نے اصل باشندوں کو بھی بھڑکا نا ضروری سمجھا تاکہ موسیٰ ؑکی مخالفت ایک قومی مسئلہ بن جائے۔فَلَنَاْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكَ مَوْعِدًا (اگر یہ بات ہے) تو ہم بھی تیرے مقابلہ میں ویسا ہی جادو لائیں گے۔پس ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى۰۰۵۹ وقت اور مقام موعود مقرر کر نہ اس سے ہم پیچھے ہٹیں اور نہ تو ہٹے۔وہ (ایک ایسا) مکان( ہو جو) ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہو۔حلّ لُغَات۔لَانُخْلِفُہُ۔اَخْلَفَ سے ہے اور اَخلَفَہُ مَا وَعَدَہُ کے معنے ہیں قَالَ شَیْئًاوَلَمْ یَفْعَلْہُ یعنی کسی بات کے کرنے کا وعدہ کیا اور پھر نہ کیا (اقرب ) پس لَانُخْلِفُہُ کے معنے ہوںگے۔ہم وعدہ کے خلاف نہیں کریںگے۔سُوًی کے معنے ہیں اَلْعَدْلُ۔برابر۔الوسط۔درمیانہ (اقرب) اور لَانُخْلِفُہ نَحْنُ وَلَااَنْتَ مَکَانًا سُوًی میں مَکَا نًا سُوًی کے معنے ہیں مُعْلَمًا ایْ ذَامَعْلَمٍ۔یعنی ایسی جگہ جس تک پہنچنے کے نشانات کا سب کو علم ہو گویا ایسی مشہو رجگہ جس کو سب جانتے ہوں۔(اقرب) تفسیر۔معلوم ہوتاہے فرعون موسیٰ مکہ کے لوگوں کی نسبت زیادہ منصف تھا۔اسی طرح آجکل کے بعض مولویوں کی نسبت بھی اس میںزیادہ انصاف پایا جاتا تھا۔کیونکہ وہ موسیٰ ؑ کے مشورہ سے مقابلہ کے لئے ایسی جگہ مقرر کرتاہے جہاں فساد کا کوئی خطرہ نہ ہو اور موسیٰ ؑ اور فرعون کو ایک جیسے حقوق حاصل ہوں۔لیکن آج کل کے مولوی یا پادری جس سے اختلاف ہوتا ہے اسے ایسی مجلس میںبلاتے ہیں جس میں ان کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہو تاکہ فساد ہو اور وہ اپنے دشمنوں کو مار پیٹ سکیں۔