تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 522
۔اس مکالمہ کے دوران میںانہوں نے خدا تعالیٰ کے متعلق اپنا عقیدہ نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا اب اس کے بعد فرماتا ہے۔مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى یعنی ہم نے تمہیںاسی زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی زمین میںتمہیںمرنے کے بعد لوٹائیں گے اورپھر اسی زمین سے تم کو دوبارہ نکال کر کھڑاکریںگے۔یہ وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمائی کہ فرعون کی قوم ستارہ پرست تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ ستاروں سے روحیں اترتی اورجنم لیتی ہیںاور پھر وہیںچلی جاتی ہیں(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس زیر لفظ The Eygption Religion)۔اسی عقیدہ کے ماتحت ہند وستان میں سورج بنسی اور چندر بنسی قومیں بنیں جن کے ناموں میںاس طرف اشارہ تھا کہ چاند اور سورج سے جن روحوں نے اتر کر جنم لیا ان کے خاندانوں کے یہ نام ہیں۔پس چونکہ ان کا عقیدہ تھاکہ دنیاکے کاروبار کا تعلق ستاروں سے ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے خداہی سب کچھ کرتاہے او ر اسی کے قبضہ و تصرف میں تمام ارواح ہیں۔اس آیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات بھی ثابت ہوتی ہے۔کیوں کہ اس میںبتایا گیا ہے کہ انسان کی زندگی اس کی موت اور اس کادوبارہ بعث اسی زمین سے وابستہ ہے۔پس جب یہ ایک مسلمہ قانون ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیسے جاسکتے ہیں۔وَ لَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى ۰۰۵۷قَالَ اَجِئْتَنَا اورہم نے اس (یعنی فرعون) کو اپنے ہر قسم کے نشان دکھائے مگر( باوجود ان کے )وہ جھٹلانے پر مصر رہا اور انکار لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يٰمُوْسٰى۰۰۵۸ کرتا چلاگیا اورکہنے لگا اے موسیٰ کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے تاکہ اپنی سحربیانی کے ذریعہ سے ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔تفسیر۔اس میںفرعون موسیٰ کی ایک اور چالا کی کا ذکر کیا گیا ہے۔وہ یہ نہیںکہتاکہ موسیٰ مجھ کوتخت حکومت سے الگ کر کے خود اس پرقبضہ کرناچاہتاہے بلکہ وہ اسے ایک قومی سوال بنا کر کہتاہے کہ کیا تو اس لئے آیاہے کہ اپنی چالوں سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دے۔گویا اس نے چاہا کہ ملک کے تمام باشندوں کو موسیٰ ؑکے خلاف بھڑکا دے اور انہیں جوش دلائے کہ موسیٰ تمہیںنکال کر اپنی قوم کی حکومت قائم کرنا چاہتاہے اس وقت فرعون کی حکومت مصر