تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 48
جنت سے دنیوی نعماء مراد لی جائیں تو یقیناً یورپ کا مزدور جنت میں ہے اور بڑے بڑے صلحاء اور اولیاء نعوذ باللہ جنت میںنہیں تھے پس اس جگہ جنت سے مراد روحانی امن ہی ہو سکتا ہے اور جنت ملنے سے مراد خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ جو شخص خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اس جہان میں بھی خدا تعالیٰ کا مقرب ہے اور اگلے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کے قرب میں جگہ حاصل کرے گا اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ہر انسان میں خدا تعالیٰ کا مقرب بننے کی قابلیت موجود ہے اگر گناہ انسان کو ورثہ میں ملا ہوا ہوتا تو اس کا قرب اسے کہاں حاصل ہو سکتا تھا۔(۱۳)اسی طرح فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسرائیل :۷۳) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔اب اس کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ جو شخص اس دنیا میں جسمانی لحاظ سے اندھا ہوگا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہوگایہ تو بڑے ظلم کی بات ہے کہ ایک شخص اس جہان میں بھی اندھا ہو اور اسے اگلے جہان میں بھی اندھا رکھا جائے۔اس کے معنے بھی درحقیقت خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھنے والے کے ہیں اور اندھے سے مراد وہ ہےجس نے خدا تعالیٰ کو نہیںدیکھا۔پس مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى سے وہ معنے نکلتے ہیں ایک منفی صورت میں اور ایک مثبت صورت میں ایک وہ ہیںجو اعمیٰ ہیں اور ایک وہ ہیں جو اعمیٰ نہیں کیونکہ فرماتا ہے جو اس دنیا میں اعمیٰ ہو گا وہ اگلے جہان میں بھی اعمیٰ رہے گا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کچھ لوگ اعمیٰ ہوں گے اور کچھ اعمیٰ نہیں ہوں گے پس یہ آیت بھی بتا رہی ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک بعض کا دل پاک بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس جگہ یہی مضمون بیان فرماتا ہے کہ اس دنیا میں جس شخص کا قلب خراب ہو گیا (معلوم ہوا کہ ساری دنیا کا قلب خراب نہیں ) وہ اگلے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی قابلیت نہیںرکھے گا۔(۱۴)اسی طرح حدیث میں آتا ہے کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَ اہُ یُھَوِّدَ انِہِ اَوْ یُنَصِّرَانِہِ اَوْ یُمَجِّسَا نِہٖ (بخاری کتاب الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین )ہر بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے اور نیکی کی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔پھر اس کے ماں با پ اسے سکھا کر کبھی یہودی بنا دیتے ہیں کبھی نصرانی بنا دیتے ہیں اور کبھی مجوسی بنا دیتے ہیں اس سے بھی پتہ لگاکہ انسان جو پیدا ہوتا ہے فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے اور بدی پیدائش کے بعد اردگرد کے اثرات کے نتیجہ میں آتی ہے۔(۱۵)اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ہر انسان کا دل خدا تعالیٰ نے صاف بنایا ہے پھر وہ دنیا میں آکر یا نیکی کرتا ہے یا بدی کرتا ہے جب وہ کوئی نیکی کرتا ہے تو ایک سفید نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے اور جب کوئی