تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 511

میںڈال دے لیکن بائیبل میں سرکنڈوں کے ٹوکرے میںڈالنے کا ذکر ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اختلاف کوئی حقیقت نہیںرکھتاکونکہ مختلف ملکوں میںسامان رکھنے کے لئے مختلف چیزوں سے برتن بنائے جاتے ہیں۔دریا کے کنارے کے لوگ جھاڑیوں کی شاخوں سے ایسے بکس بنالیتے ہیںجن میں وہ چیزیں رکھتے ہیںعربی زبان میں ہم اس کو تابوت کہہ دیں گے۔یہ ضرو ری نہیںکہ تابوت سے مراد لکڑی کابنا ہوا بکس ہو۔پس یہ اختلاف کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔لیکن پھر بھی قرآنی الفاظ زیادہ درست ہیںاس لئے کہ جس چیز کو دریا میںڈالا جائےگا وہ بہر حال ایسی ہی ہوگی جس کے اندر پانی داخل نہ ہوسکے اسی لئےبائیبل بھی بتاتی ہے کہ سرکنڈے کے ٹوکرے پر چکنی مٹی اوررال لگاکر اس کے سوراخوں کوبند کیاگیا اورجب سرکنڈے کے ٹوکرے پرمٹی اور رال وغیرہ لگاکر اسے اچھی طرح بند کیا گیا تووہی ٹوکراتابوت بن گیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کے واقعہ سے بھی ایک مشابہت حاصل ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ موسیٰ ؑکو دودھ پلوانے کے لئے اس کی بہن نے کوشش کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودودھ پلانے والی عورت کو خدا تعالیٰ خود پکڑ کر آپ کے پاس لے آیا۔چنانچہ تاریخوں میںلکھا ہے کہ مکہ کے ارد گرد کے گائوں کی عورتیںایک خاص موسم میںمکے میںجمع ہوجاتی تھیں تاکہ امیروں کے بچے دودھ پلانے کے لئے اپنے ساتھ لے جائیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند ماہ کے ہوگئے اور وہ وقت آیا جب عورتیں باہر سے ا ٓتی تھیں تو باہر سے کچھ عورتیں آئیںجن میں آپ کی ہونے والی دائی حلیمہ بھی تھی۔حلیمہ کا خاندان غریب تھا۔اس لئے جن امیر گھروں میںبھی وہ گئی انہوں نے ا پنابچہ اسے دینے سے انکار کردیا یہ سمجھ کر کہ یہ غریب عورت بچے کو اچھی طرح سے پال نہیںسکے گے۔حلیمہ سارا دن مکہ کے گھروں میںپھرتی رہی اور ردّ ہوتی رہی اور میرے آقاکی ماں بیوہ آمنہ اپنے گھر میں کسی مناسب دایہ کاانتظار کرتی رہی لیکن کسی مناسب دا یہ نے اس گھر میں جھانکنا تک پسند نہ کیا۔اس خیال سے کہ آمنہ کے یتیم بچے کے پالنے کابدلہ کون دےگا جب سارادن مکہ کے ہرگھر سے حلیمہ دھتکاری گئی تو اس نے خیال کیا کہ اگر میںبغیر بچے کے گئی تو بدنام ہو جائوںگی۔چلو اگر کسی امیر گھرانے کا بچہ نہیںملتاتو غریب گھرانہ کا یتیم محمد ہی ساتھ لیتی جائوں (السیرۃ الحلبیہ جلد او ل باب ذکر الرضاعۃ صلی اللہ علیہ وسلم وما اتصل بہ) گویا ساری دائیوں کا رد کردہ بچہ اس دایہ نے لیا جسے سب مکہ والوں نے رد کردیا تھا۔اور اس طر ح وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو صحف سابقہ میںآچکی ہے کہ ’’جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا ‘‘ (متی باب ۲۱ آیت۴۲ )