تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 510

اور عَلَی عَیْنِیْ کامحاورہ اس وقت استعمال کیا جاتاہے جب کسی کی حفاظت اور شفقت مطلوب ہو۔(اقرب) پس لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْکے معنے ہوںگے تاکہ تو ہماری خاص شفقت اور رحمت میںپرورش پائے۔اِصْطَنَعَ فُلَانًا لِنَفْسِہٖ کے معنے ہیں اِخْتَارَہُ لِنَفْسِہٖ اس کو اپنے لئے چن لیا (اقرب ) پس اِصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِی کےمعنے ہوںگے میںنے تجھ کو اپنے کام کے لئے چن لیا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اے موسیٰ !جو کچھ تو نے مانگاہے وہ سب کچھ ہم نے تجھے دیا۔اس میں اشارۃً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ ہے کہ آپ کو بھی وہی کچھ دیا جائےگا جو آپ مانگیں گے۔پھر ہم نے اسے کہا کہ یہ ہمارا دوسری دفعہ احسان ہے پہلی دفعہ وہ احسان تھا جب تیری ماںنے تجھے ہمارے حکم کے مطابق دریا میںپھینک دیا تھا اور ہم نے ایسا ذریعہ اختیار کیا تھا کہ جس کی وجہ سے تو پھر اپنی ماں کی طرف لوٹادیا گیا اور یہ نشان جو دریا سے بچانے کا تھا اس لئے ظاہر کیا گیاتاکہ تو میرے فضل کے نیچے پرورش پائے۔اس جگہ بائیبل کے اس بیان کی طرف اشارہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں نے ٹوکرے میںرکھ کر دریا میں ڈال دیا اور وہ بہتے ہوئے اس جگہ پر جالگے جہاں فرعون کی بیٹی سیر کررہی تھی اور اس نے آپ کو دیکھا تو اسے رحم آیا او رکہنے لگی کہ یہ کسی عبرانی کا بچہ ہے۔اور اس نے کہا لائو ہم اس بچے کو پال لیںمگر اس کی سمجھ میںنہ آتاتھاکہ پالیں کس طرح اتنے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن بہنا پے کی محبت سے بے تاب ہو کر دریا کے کنارے آتی ہوئی نظر آئی اور اس نے دیکھ لیا کہ موسیٰ کو فرعون کی لڑکی نے پسند کرلیا ہے اور اس کی پرورش کرنا چاہتی ہے مگر حیران ہے کہ کس طرح پرورش کرے تب وہ آگے بڑھی او راس نے اپنی ماں کا پتہ بتایا کہ وہ اس بچہ کو پال لے گی۔اور اس طرح بیٹا اپنی ماں کی گودمیںآگیا۔بائیبل نے اس واقعہ کو ان الفاظ میںبیان کیاہے کہ چونکہ فرعون کاحکم تھا کہ اسرائیلی بچوں کو مار دیاجائے (خروج باب ۱ آیت ۱۶ تا ۲۲) اس لئے اس خوف سے موسیٰ کی ماں نے ’’ سرکنڈوں کا ایک ٹوکرالیااوراس پر چکنی مٹی اور رال لگاکر لڑکے کواس میںرکھا اور اسے دریا کے کنارے جھائومیںچھوڑ آئی ‘‘(خروج باب ۲ آیت ۳ ) بائیبل کے اس بیان اور قرآن کریم کے اس بیان میںایک فرق ہے او روہ یہ کہ قرآن کریم تو بتاتاہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو یہ وحی کی کہ اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ یعنی اسے تابوت میںرکھ دے اور پھر اس کودریا