تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 508
ہوں خدانہیں کیسی اندھی ہے وہ دنیا جو ان واقعات کے بعد بھی مسیح کو آسمان پر چڑھاتی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین میں دفن کرتی ہے۔اگر آسمان پر کوئی چڑھ سکتاتھاتو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اگرزمین میں دفن ہونے کا کوئی مستحق تھا تو مسیح ؑ ناصری۔مگر یہ طاقت اللہ ہی کو ہے کہ وہ لوگوں کو آنکھیں دے کہ وہ ہر ایک کا مقام پہچانیں۔كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْرًاۙ۰۰۳۴وَّ نَذْكُرَكَ كَثِيْرًاؕ۰۰۳۵اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا تاکہ ہم (دونوں )کثرت سے تیری تسبیح کریں اور کثرت سے تیرا ذکر کریں۔توہمیں بَصِيْرًا۰۰۳۶ خوب دیکھ رہاہے۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام توکثرت سے تسبیح کرنے کے لئے ایک ساتھی مانگ رہے ہیںلیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہی اس کام کوکرتے تھے۔جیسا کہ سوۃ مزمل میںآتاہے اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ(المزمل:۲۱)یعنی تیرارب اس بات کو خوب جانتاہے کہ تو کبھی دوتہائی رات کے قریب۔کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات نماز میںکھڑا رہتاہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید بجالاتاہے اور تیری اقتدامیں مومنوں کا ایک بڑاگروہ بھی تیرے ساتھ عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغول رہتاہے پس اس آیت سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقام کا فرق ظاہر ہے۔قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى۰۰۳۷وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ ( اللہ تعالیٰ) نے فرمایا۔اے موسیٰ جو تونے مانگا تجھے دیا گیا۔اور ہم (اس سے پہلے ) ایک بار اور بھی تجھ پر احسان مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ۰۰۳۸اِذْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا يُوْحٰۤىۙ۰۰۳۹اَنِ کرچکے ہیں۔جب ہم نے تیری ماں پر وحی کے ذریعہ وہ سب کچھ نازل کردیاجو( ایسے موقعہ) پر نازل کرنا ضروری