تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 507

تجربہ کا ر جرنیل آگے بڑھا اور صحابہ ؓ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے آگے کھڑے ہوگئے تو اس نے کہا۔میرا صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ ہے آپ نے فرمایا میرے اور اس کے درمیان سے ہٹ جائو پھر جب وہ حملہ کرتے ہوئے آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے صرف اپنانیزہ بڑھا کر اسے چھودیا۔قتل کرنے کی پھر بھی کوشش نہیں کی اس پروہ شخص یہ چلاتاہوا دوڑ گیا کہ ہائے میںمر گیا۔ہائے میںمر گیا۔جب اس کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ تم تو اتنے بڑے جرنیل ہو اس تھوڑے سے زخم سے کیوں چلارہے ہو تو اس نے کہاتم کو معلوم نہیںاس شخص کے نیزہ کی انی میں سارے جہنم کی آگ بھری ہوئی تھی مجھے یوں معلوم ہورہا ہے کہ میرا سارا جسم جل رہا ہے۔(سیرۃ الحبیبہ جلد ۲ صفحہ ۲۴۴) اسی طرح غزوہ حنین کے موقعہ پر جب دشمن دائیں بائیں کے ٹیلوں پر چڑھ کر تیر برسا رہا تھا اورمکہ کے نو مسلموں کے بھاگ جانے کی وجہ سے صحابہؓ کے پائوں بھی اکھڑ گئے تھے۔آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔اور اکیلے کافروں کے دورویہ لشکروں میںگھس گئے۔اس وقت حضرت ابوبکر ؓ نے آگے بڑھ کر آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑلی اور کہا۔یا رسول اللہ مسلمانوں کو لوٹنے دیجئے وہ تھوڑی دیر میں ہی آپ کے گرد جمع ہوجائیںگے اس پر آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کو سختی سے ہٹادیا اور فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑدو اور گھوڑے کو ایڑلگاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے کہ۔اَنَاالنَّبِیُّ لَاکَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ (بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالیٰ ویوم حنین اذأعجبتکم کثر تکم) اے لوگو میںموعود نبی ہوں۔میںجھو ٹا نہیں۔تم مجھے مار نہیںسکتے مگر میرے اس نشان کو دیکھ کر مجھے خدا نہ بنالینامیںعبد المطلب کا بیٹا اور انسان ہوں۔کتنا عظیم الشان فرق ہے مسیح ؑ میں اور مرے آقامیں وہ ساری رات یہ دعائیں مانگتارہا کہ ’’ اے میرے باپ اگر ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے‘‘ (متی باب ۲۶ آیت ۳۹ ) مگر پھر بھی اس کو لوگوں نے خدابنادیا وہ صرف دوگھنٹے صلیب پر لٹکا رہا اور اتنے عرصے میںہی خدا تعالیٰ سے شکایت کرنے لگاکہ ’’اے میرے خدا ! اے میرے خدا! تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا ‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۴۶) مگر میر ا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے دشمن کے نرغہ میںگھر گیا جودوطرف پہاڑیوںپر چڑھاہواتھا۔اور دونوں طرف سے اس پر تیراندازی کررہا تھا۔اور اس کے ساتھی ایک فریب میں آکر بھاگ گئے تھے۔مگر پھر بھی وہ اپنے خدا سے مایوس نہیں ہوا۔اور پھر بھی اس نے یہی کہا کہ میںانسان