تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 506

ایسی اعلیٰ درجہ کی ہو کہ جس کا پھیلانا آسان ہو اور پھر مجھے اس کے بیان کرنے کی بھی توفیق عطا فرماتامیں اسے عمدہ طریق سے پیش کرسکوں۔اور اس کے بعد ا ے میرے خدا لوگوں کی طبائع اس طرف پھیر دے تاکہ وہ اس تعلیم کی طرف توجہ کرنے لگیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعاسے ظاہر ہے کہ ہدایت درحقیقت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے۔تقریروں اور دلیلوں سے نہیںآتی اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعاکی کہ الٰہی جوتعلیم میںدوں اس پر خود بھی عمل کروں اور دوسرے لوگ بھی اس کو آسانی سے مان لیں۔ان آیات میں تبلیغ کا یہ گر بتایا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دعاکرتا رہے۔پس ہمارے مبلغین کو یہ دعا باربار مانگتے رہنا چاہیے۔وَ اجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْۙ۰۰۳۰هٰرُوْنَ اَخِيۙ۰۰۳۱اشْدُدْ اور میرے اہل میں سے میرا ایک نائب تجویز کر (یعنی ) ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔اس کے ذریعہ سے میری طاقت کو بِهٖۤ اَزْرِيْۙ۰۰۳۲وَ اَشْرِكْهُ فِيْۤ اَمْرِيْۙ۰۰۳۳ مضبوط کر۔اور اس کو میرے کام میں شریک کر۔حلّ لُغَات۔وزیر وزیرکے معنے مُعَاوِنٌ کے ہیں (اقرب) اَلْاَزْرُ کے معنے ہیں الظَّھْرُ۔پیٹھ اَلْقُوَّۃُ۔طاقت اور قوت (اقرب) تفسیر۔اس آیت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکافرق ظاہر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلی وحی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ مجھے کوئی ساتھی بھی دے۔اور اس کے ذریعہ سے میری طاقت کو بڑھا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوتھوڑے سے وقفہ کے لئے انکساراً یہ ظاہر کیا کہ میںاتنا بڑابوجھ اٹھانے کے ناقابل ہوں۔مگر پھر اکیلے ہی اس بوجھ کواٹھانے کے لئے تیار ہوگئے (فَدَاہُ اَبِیْ وَاُمِّیْ وَ جَسَدِیْ وَ رُوْحِیْ) تبھی قرآن کریم فرماتا ہے۔وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن:۲۰) یعنی جب ہمارا بندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکھڑاہوتا ہے تاکہ خدا کی عبادت کو دنیا میںقائم کرے تو لوگ اس پر حملہ کرنے کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں۔پس محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) ساری عمر اکیلے کھڑے رہے اور ساری قوم کے حملے سہتے رہے۔چنانچہ تاریخ میں آتاہے کہ جب اُحد کے موقعہ پر کفار کا ایک