تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 505

دریا کے پانی کے خون ہوجانے کا مفہوم صر ف اس قدرہے کہ دریا کا پانی اس قدر خراب ہوگیا تھا کہ جو کوئی اس کوپیتاتھااس کاخون خراب ہوجاتاتھا۔اسی طرح پلوٹھے بچوں کی موت کا نشان بائیبل نے علیحدہ بیان کیاہے حالانکہ اسے علیحدہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔یا تو یہ نشان دم کے نشان کے ماتحت آجاتاہے اور یا پھرقمل کےنشان کے ماتحت آجاتا ہے کیونکہ جوؤں ،مکھیوں اور مچھروں سے بیماری پھیلتی ہے اور ان سے موت واقع ہوجاتی ہے۔اسی طرح قمل کے ماتحت مچھروں کا نشان بھی آجاتاہے کیونکہ عربی زبان میںقمل کے معنے ان چھوٹے کیڑوں کے بھی ہوتے ہیںجن کے چھوٹے چھوٹے پر ہوتے ہیں(اقرب) غرض ان نشانات کے بارے میںقرآن کریم کا بیان بالکل صحیح اور درست ہے۔اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ؒ۰۰۲۵قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ تو فرعون کی طرف جا۔کیونکہ اس نے سرکشی اختیار کی ہے (اس پر موسیٰ نے ) کہا اے میرے رب میرا سینہ صَدْرِيْۙ۰۰۲۶وَ يَسِّرْ لِيْۤ اَمْرِيْۙ۰۰۲۷وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ کھول دے۔اور جو فرض مجھ ہر ڈالا گیا ہے اس کو پورا کرنا میرے لئے آسان کر دے اور اگر میری زبان میں کوئی لِّسَانِيْۙ۰۰۲۸يَفْقَهُوْا قَوْلِيْ۪۰۰۲۹ گرہ ہو تو اسے بھی کھول دے (حتی کہ ) لوگ میری بات کو آسانی سے سمجھنے لگیں تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ نشان دکھا کر ہم نے موسیٰ سے کہا۔کہ اب فرعون کی طرف جا۔کیونکہ وہ سرکش ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا الٰہی میں جاتاتوہوں لیکن آپ میرے سینہ کو کھول دیجیئے اور میرے کام کو آسان کر دیجیئے اور میری زبان کو چلادیجئے اور اس کی ساری گرہیں کھول دیجئے تاکہ فرعون اور اس کے ساتھی میری بات کو سمجھ سکیں۔کیونکہ جو پیغام مجھے دیا گیا ہے اس کا ان لوگوںکے لئے سمجھنا بڑا مشکل ہے۔اس دعا میںحضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے یہ کہا ہے کہ اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے یعنی میرے اندر اس کام کے لئے ایک قسم کی دیوانگی جوش اور ولولہ پیدا فرمادے۔اور میرے معاملہ میں میرے لئے آسانیاں پیدا کردے۔یعنی ایسی تعلیم اور ایسے احکام مجھے دے کہ لوگ اس کو ماننے کے لئے تیار ہوں۔اور اسی طرح وہ تعلیم