تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 504
ہلاک کردیا اور فرعون اور اس کے سب نوکر اور سب مصری رات ہی کو اٹھ بیٹھے اور مصر میں بڑاکہرام مچ گیا کیونکہ ایک بھی ایسا گھر نہ تھا جس میں کوئی نہ مراہو ‘‘ (خروج باب ۱۲ آیت ۲۹ تا ۳۰ ) ( ۱۳)۔تیرھواں نشان سمندر سے پار گذرنے کاہے چنانچہ لکھاہے۔’’ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تند پوربی آندھی چلاکر اور سمندر کو پیچھے ہٹاکر اسے خشک زمین بنادیا۔اور پانی دوحصے ہوگیا اوربنی اسرائیل سمندر کے بیچ میںسے خشک زمین پرچل کر نکل گئے۔اور ان کے داہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔‘‘ (خروج باب ۱۴ آیت ۲۱ ،۲۲ ) جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکاہے قرآن کریم نے صرف نونشانات کا ذکر کیاہے۔یعنی ۱۔عصا کا نشان ۲۔یدبیضاء کا نشان ۳۔طوفان کا نشان ۴۔ٹڈیوں کا نشان ۵۔جوئوں کا نشان ۶۔مینڈکوں کا نشان ۷۔خون کا نشان ۸۔قحط کا نشان جیسے فرمایا۔وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ (الاعراف: ۱۳۱) ۹۔سمندر سے پار گذرنے کا نشان۔ان نشانات کے بیان کرنے میں قرآن کریم اوربائیبل میںاختلاف نظر آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بائیبل نے ان نشانات کے بارے میںبڑے مبالغہ سے کام لیاہے۔ورنہ قرآن کریم نے جن نشانوں کا نو کی تعداد میںذکر کیاہے اس میںبائیبل کے بیان کردہ تمام کے تمام نشانات آجاتے ہیں۔چنانچہ طوفان میںاولوں اور تاریکی کا نشان شامل ہے لیکن بائیبل میںاس کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے خون کا نشان بیان کیا ہے لیکن بائیبل نے اسے دریا کے لہو ہوجانے اور جسموں پر پھوڑے اور پھنسیاں نکلنے میں تقسیم کردیا ہے۔حالانکہ