تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 503
’’ اور خداوند نے موسیٰ سے کہاکہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا کہ سب ملک مصر میںانسان اور حیوان اورکھیت کی سبزی پر جو ملک مصر میںہے اولے گریں۔اور موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اٹھائی اور خداوند نے رعد اور اولے بھیجے۔اور آگ زمین تک آنے لگی۔اور خداوند نے ملک مصر پر اولے برسائے۔پس اولے گرے اور اولوں کے ساتھ آگ ملی ہوئی تھی اور وہ اولے ایسے بھاری تھے کہ جب سے مصری قوم آباد ہوئی ا یسے اولے ملک میںکبھی نہیںپڑے تھے ‘‘۔(خروج باب ۹آیت ۲۲،۲۳،۲۴ ) ( ۱۰)۔دسواں نشان ٹڈیوں کا ہے۔چنانچہ لکھ ہے۔’’تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ملک مصر پر اپنا ہاتھ بڑھاتاکہ ٹڈیاں ملک مصر پر آئیں اور ہر قسم کی سبزی کو جو اس ملک میںاولوں سے بچ رہی ہے چٹ کرجائیں۔پس موسیٰ نے ملک مصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی۔اور خداوند نے اس سارے دن اور ساری رات پُروا آندھی چلائی اور صبح ہوتے ہوتے پُروا آندھی ٹڈیاں لے آئی اور ٹڈیاں ساے ملک مصر پر چھا گئیں۔اور وہیںمصر کی حدود میںبسیرا کیا اور ان کا دَل ایسا بھاری تھا کہ نہ تو ان سے پہلے ایسی ٹڈیاں کبھی آئیں۔نہ ان کے بعد پھر آئیںگی۔کیونکہ انہوں نے تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا۔ایسا کہ ملک میںاندھیرا ہوگیا اورانہوں نے اس ملک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میووں کو جو اولوں سے بچ گئے تھے چٹ کرلیا۔‘‘ (خروج باب ۱۰ آیت ۱۲ تا ۱۵ ) ( ۱۱)۔گیارھواں نشان تاریکی کا نشان ہے چنانچہ لکھاہے۔’’پھرخداوند نے موسیٰ سے کہاکہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا۔تاکہ ملک مصر میںتاریکی چھاجائے۔ایسی تاریکی جسے ٹٹول سکیں اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا یا اور تین دن تک سارے ملک مصر میںگہر ی تاریکی رہی۔تین دن تک نہ تو کسی نے کسی کو دیکھا اور نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا۔‘‘ (خروج باب ۱۰ آیت ۲۱ تا۲۳ ) ( ۱۲)۔بارھوان نشان پلوٹھے بچوں کامرنا ہے چنانچہ لکھاہے۔’’ اور آدھی رات کو خداوند نے ملک مصر کے سب پلوٹھوں کو فرعون جو اپنے تخت پر بیٹھا تھااس کے پلوٹھے سے لےکر وہ قیدی جو قید خانہ میںتھا اس کے پلوٹھے تک بلکہ چوپایوں کے پلوٹھوں کو بھی