تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 492

کے بھی خلاف ہے۔جہاں دومقامات میںسینکڑوں میل کافاصلہ ہو وہاں یہ کہنا کہ وہ بکریاں چراتے ہوئے وہاں چلاگیا کسی طرح درست نہیںمانا جاسکتا۔پس قرآن کریم نے جو کچھ کہاعقل اور جغرافیہ کے مطابق ہے اوربائیبل جو کچھ کہتی ہے وہ عقل اور جغرافیہ کے خلاف ہے۔پھر ایک اوربات بھی قابل غور ہے اوروہ یہ کہ اس نظارہ کے دورا ن میںان کے بیوی بچوں کے متعلق کوئی بات نہیںکہی گئی۔اگر تو انہیں یہ کہاجاتاکہ تمہارا پنے بیوی بچوںکوبھی ساتھ لے جانا ضروری ہے تب توسمجھا جاسکتاتھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سینکڑوں میل کافاصلہ دوبارہ اس لئے طے کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریںمگر اس قسم کاکوئی اشارہ بائیبل میںنہیںپایا جاتاکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ کہاہو کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے جائو۔پس اس نظارہ کے بعد ان کے مدین میںواپس آنےکی کوئی معقول وجہ سمجھ میںنہیںآتی۔لیکن قرآن بتاتاہے کہ ان کے اہل وعیال اس وقت ساتھ ہی تھے کیونکہ وہ سینکڑوں میل کے سفر پر جارہے تھے اورکوئی وجہ نہیںتھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو مدین میں ہی چھوڑجاتے۔پس قرآن کریم کا بیان عقل اور جغرافیہ کے بالکل مطابق ہے مگربائیبل کابیان کسی طرح بھی درست نہیںسمجھا جاسکتا۔فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِيَ يٰمُوْسٰىؕ۰۰۱۲ پھر جب وہ اس (آگ ) کے پاس پہنچا تو اسے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ۔تفسیر۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بظاہر آگ نظر آنے والی چیز کے پاس پہنچے۔تو ان کو الہام ہواکہ اے موسیٰ ! میںتیرارب ہوں اس کایہ مطلب نہیںکہ وہ آگ موسیٰ کا رب تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جلوہ کو ظاہر کرنے والا موسیٰ ؑکا رب تھا کیونکہ آگ نہیںبولاکرتی۔خدابولاکرتاہے۔اِنِّيْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ؕ۰۰۱۳ میںتیرارب ہوں۔پس تواپنی دونوں جوتیاں اُتار دے کیونکہ تو اس پاک وادی طوٰی میںہے۔حلّ لُغَات۔طُوًی۔طَوَی (یَطْوِی ) الصَّحِیْفَةُ کے معنے ہوتے ہیں۔کاغذ کولپیٹا (اقرب )اور تاج العروس میں طُوًی کے معنے الشَّیْءُ الْمَثْنِیُّ۔کے بھی لکھے ہیںیعنی ایسی چیز جو ٹیڑھی ہو سیدھی نہ ہو۔مفردات