تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 491
کہا۔سلامت جا۔اور خداوند <mark>نے</mark> مدیان میںموسیٰ سے کہاکہ مصر کو لوٹ جاکیونکہ وہ سب جو تیری جان کے خواہاں تھے مرگئے۔تب موسیٰ اپنی بیوی اوربیٹوں کو لے کر اور ان کوایک گدھے پر چڑھاکر مصرکولوٹا‘‘ (خروج باب ۴آیت ۱۸ تا ۲۰ ) گویا بائیبل یہ بتاتی ہے کہ مدین میںہی ایک دن جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتے ہوئے حورب کی چٹان کی طرف گئے تو وہاں ایک جھاڑی میںانہیںخدائی جلوہ دکھائی دیا۔اس کے بعد وہ اپ<mark>نے</mark> خسرکے پاس آئے اور ان سے اجازت حاصل کرکے اپنی بیوی اور بچوں کومصر لے گئے لیکن قرآن کریم بتاتاہے کہ یہ واقعہ انہیںمدین سے مصرجاتے ہوئے پیش آیا جبکہ ان کے اہل وعیال بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس اختلاف کے متعلق یہ امر یادرکھنا چاہیے کہ بائیبل کا غور سے مطالعہ کر<mark>نے</mark> والے یہ امر اچھی طرح جانتے ہیںکہ بائیبل میںآدمیوںکی تعداد اور وقت کے اندازے بالکل غلط دیئے گئے ہیںجن پر کوئی معقول انسان اعتبار کر<mark>نے</mark> کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔چنانچہ جہاں تاریخی طور پر ہزاروں کی تعداد ہوتی ہےبائیبل اس تعداد کولاکھوں بیان کرتی ہے اور جہاںسینکٹروں میل کا فاصلہ ہوتاہےبائیبل اسے قریب کا مقام ظاہر کرتی ہے۔اس وجہ سے بائیبل کا بیان ایسانہیںہوسکتاکہ اسے اس واقعہ کے متعلق یقینی او ر قطعی قرار دیا جاسکے۔مثلاً اسی واقعہ میں خدائی تجلی ظاہر ہو<mark>نے</mark> کا مقام حورب کاپہاڑ قرار دیا گیاہے جو دشت سینا میںہے اور مدین سے سینکڑوں میل کے فاصلہ پر ہے (قاموس الکتاب جلد ۴ زیر لفظ حورب) مگر اسے بیان اس رنگ میںکیا گیا ہے کہ گویا مدین سے میل آدھ میل کے فاصلہ پرکوئی مقام تھا جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی بکریوں کو چرا<mark>نے</mark> لے گئے۔اور وہاں ان پر خدائی کلام نازل ہوا اور اس کے بعد وہ پھراپ<mark>نے</mark> خسر کے مکان پر آئے اوران سے اجازت چاہی کہ وہ اپنی بیوی اوربچوںکو مصرلے جائیں۔حالانکہ اول تو یہ عقل کے بالکل خلاف ہے کہ سینکڑوں میل پر کوئی بکریاں چرا<mark>نے</mark> کے لئے لے جائے اوراسی شام کو واپس آجائے پھر اگر انہوں <mark>نے</mark> ا پ<mark>نے</mark> بیوی بچوں کو ساتھ ہی لے جاناتھا۔تو وجہ کیا تھی کہ وہ پہلی دفعہ ہی ان کو ساتھ نہ لے گئے اور اتنالمبافاصلہ طے کر<mark>نے</mark> کے بعد دوبارہ واپس آئے اور ان کوساتھ لے گئے۔اگر انہوں <mark>نے</mark> اپ<mark>نے</mark> بیوی بچوں کولے جانا تھاتو عقلاً انہیںپہلی دفعہ ہی ساتھ لے جانا چاہیے تھا۔نہ یہ کہ سینکڑوں میل اکیلے چلے جاتے اور پھر واپس آتے اوربیوی بچوں کوساتھ لے جاتے لیکن قرآن کریم بتاتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اہل وعیال ان کے ساتھ ہی تھے۔یہ غلط ہے کہ وہ دوبارہ آئے اور اپ<mark>نے</mark> بیوی بچوں کولے گئے۔پس بائیبل کابیان عقل کے بالکل خلاف ہے لیکن جوبات قرآن <mark>نے</mark> کہی ہے وہ عقل کے مطابق ہے۔اسی طرح بائیبل کا بیان جغرافیہ