تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 490

والے کی ذات تک محدود ہوتاہے۔جیسے جلوئہ ولایت۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدین سے مصر واپس آتے ہوئے جب راستہ میںایک روحانی نظارہ دیکھا توانہوں نے اپنے اہل سے کہاکہ مجھے یوں معلوم ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کوئی جلوہ دکھانے والا ہے۔اگر تو وہ ہدایت نبوت ہوئی اور وہ جلوہ شریعت والا ہوا اور مجھے حکم ہوا کہ دوسروں کو بھی تعلیم دو تو میں اس میں سے کوئی انگارہ یعنی کوئی تعلیم اپنے خاندان یا اپنی قوم کے فائدہ کے لئے بھی لے آئوںگااوراگر یہ جلوہ شریعت والا نہ ہوا بلکہ صرف ہدایت ولایت ہوئی اورمیری ذات تک محدود ہوئی تو کم سے کم میںاپنی جان کے لئے ہی کوئی ہدایت اس سے حاصل کروںگا اوراس سے فائدہ اٹھا کرواپس چلا آئوں گا۔زیر تفسیر آیت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعض واقعات کو بیان کرنا شروع کیاہے۔اور ابتداءًبتایا ہے کہ کس طرح ان کااللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی کاسلسلہ شروع ہوا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام مصرمیں پیدا ہوئے اورعمر کاابتدائی حصہ آپ نے مصرمیںہی گزارالیکن پھر بعض واقعات سے مجبور ہوکر مدین تشریف لے گئے اور دس سال وہاں قیام کیا اور وہیںشادی کی دس سال وہاں ٹھہرنے کے بعد اہل وعیال سمیت واپس مصر تشریف لارہے تھے کہ راستے میںآپ نے خدا تعالیٰ کی تجلی کا مشاہدہ آگ کی صورت میں کیا۔بائیبل میں بھی اس واقعہ کا ذکر آتاہے۔مگر بائیبل نے اس واقعہ کی جوتفصیل بیان کی ہے اس میںاور قرآن کریم کے اس بیان کردہ واقعہ میںکچھ اختلاف ہے جس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اس اختلاف کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن کریم بتاتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مدین سے مصر کی طر ف واپس تشریف لارہے تھے توا للہ تعالیٰ کی وحی ان پر نازل ہوئی اوربائیبل بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونےکا واقعہ پہلے پیش آیا۔اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین تشریف لے گئے اورپھر مدین سے اپنے اہل وعیال کو لےکرمصر روانہ ہوئے۔چنانچہ خروج باب ۳آیت ۱،۲ میں لکھاہے۔’’ اور موسیٰ اپنے خسریتروکی جومدیان کاکاہن تھا بھیڑبکریاں چراتاتھا اوروہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتا ہوا ان کو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ حورب کے نزدیک لے آیااور خداوند کا فرشتہ ایک جھاڑی میںسے آگ کے شعلہ میں اس پر ظاہر ہوا ‘‘ اور آخر میں لکھاہے۔’’ تب موسیٰ لوٹ کراپنے خسریتروؔ کے پاس گیا اور اسے کہاکہ مجھے ذرااجازت دے کہ اپنے بھائیوں کے پاس جو مصرمیں ہیںجائوں اور دیکھوںکہ وہ اب تک جیتے ہیں کہ نہیںیترو نے موسیٰ سے