تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 461

بھی استعمال ہوتاہے وِدٌّ کی شکل میںبھی استعمال ہوتاہے اور وُدٌّ کی شکل میں بھی استعمال ہوتاہے او تینوں شکلوںمیں محبت شدید کے معنوں میں ہی آتاہے۔اس کے معنوں کی حقیقت اس طرح واضح ہوتی ہے کہ وَدٌّ عربی زبان میں وَتَدٌ یعنی میخ کوبھی کہتے ہیں (مفردات) اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ جانور کو زمین کے ساتھ باندھ دیا جاتاہے۔پس وُدٌّ ایسی محبت کانا م ہے جو محب اور محبوب دونوں کو اس طرح جوڑدیتی ہے جیسے کیلا گاڑ کرجانور کو باندھ دیا جاتاہے اور وہ زمین کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔بےشک رغبت اور انس کے الفاظ بھی عربی زبان میں اظہار محبت کے لئے استعمال ہوتے ہیںمگر ان میں وہ شدت محبت نہیں پائی جاتی جو وُدٌّ میں پائی جاتی ہے رغبت کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیںکہ میرے دل میں شوق پیداہوگیا ہے اس میں یہ مفہوم داخل نہیں ہوتاکہ محبوب کے دل میں بھی کوئی شوق پیدا ہوا ہے یا نہیں۔اور انس میں یہ مفہوم پایا جاتاہے کہ میرے دل میں بھی شوق پید اہوگیا ہے اور میرے محبوب پر بھی میری محبت کااتنا اثر ہوا ہے کہ اس نے اپنا منہ میری طرف کرلیا ہے مگر ود میں یہ مفہوم داخل ہے کہ اس نے صرف منہ ہی نہیںکیا بلکہ محبت نے ہماری آپس میں گرہ باندھ دی ہے او رہمیں ایک دوسرے سے وابستہ کردیا ہے قرآن کریم میںجو کفار کے بتوں کے نام آئے ہیں ان میں سے ایک بت کانام وَدٌّ بھی آیا ہے (نوح :۲۴) کیونکہ مشرکین کاخیال تھا کہ جیسے کیلے کازمین سے تعلق ہوتاہے ایسا ہی اس بت کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے یہ لفظ مدارج محبت کے لحاظ سے رغبت اورا نس سے بڑھ کر لیکن خلۃ سے نچلے مقام پر ہے کیونکہ خلۃ کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ ایسی محبت جو جسم کے سوراخ سوراخ میںداخل ہوجائے۔ود میںیہ کیفیت تو پیدا نہیں ہوتی لیکن ایسا مستقل تعلق ضرور پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کٹ نہیں سکتا۔تفسیر۔حضرت مسیح ؑکے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا کہ ہم اسے لوگوں کے لئے ایک نشان اور اپنی طرف سے رحمت کاذریعہ بنائیںگے گویا مسیح کے لئے رحمت کا لفظ آیا تھا مگر مسلمانوںکےلئے ود کالفظ اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے اور جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکاہے ود اس محبت کو کہتے ہیں جو کیلے کی طرح گڑی ہوئی ہو۔قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ بعض جگہ ایسے ا لفاظ استعمال کرتاہے جن کوچکر دے کر کئی کئی مضامین نکل آتے ہیں یہاں بھی اسی قسم کاطریق اختیار کیا گیا ہے کیونکہ یہاں لھم کالفظ استعمال کیاگیا ہے جس کے معنے ہی ان کے فائدہ کے لئے کیونکہ لام فائدہ کے لئے آتا ہے مگر یہ کہ کس کس امر کے متعلق اللہ تعالیٰ ود پیدا کرے گا اسے اللہ تعالیٰ