تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 460

وَ كُلُّهُمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِفَرْدًا۰۰۹۶ اور وہ سب کے سب قیامت کے دن (فرداً) فرداً اس کی خدمت میں حاضرہوںگے۔تفسیر۔عیسائی کہتے ہیںکہ مسیح نے ہمارابوجھ اٹھالیاہے اللہ تعالیٰ اس کی تردیدکرتاہے اور فرماتا ہے کہ اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ کاقانون چل رہا ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی کاقانو ن جاری ہوگا اور ہرشخص فرداًفرداً اس کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے حاضر ہوگا۔پس یہ غلط خیال ہے کہ تمہاری جگہ مسیح ؑ صلیب پرلٹک گیا اور اس نے تمہارا بوجھ اٹھالیا ہرشخص کو اپنی صلیب آپ اٹھاکر چلنا پڑے گا جیساکہ مسیح ناصری نے بھی کہا ہے۔’’جو کوئی اپنی صلیب نہ اٹھائے اور میرے پیچھے نہ آئے وہ میرا شاگرد نہیں ہوسکتا۔‘‘ (لوقاباب ۱۴ آیت ۲۷ ) اسی طرح انہوں نے کہا۔’’اگر کوئی میر ے پیچھے آناچاہے تواپنی خودی سے انکار کرے اوراپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہولے ‘‘ ( مرقس باب ۸آیت ۳۴ ) میں سمجھتاہوں کہ اس آیت میں اسی طرف اشارہ کیاگیاہے کہ جب مسیح ؑ خود اس امر کی وضاحت کر چکاہے کہ ہر شخص کو اپنی صلیب آپ اٹھانی پڑےگی تو تم کسی طرح سمجھتے ہو کہ تمہارے سب بوجھ اس نے اٹھالئے ہیں۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں (خدائے ) رحمٰن ان کے لئے الرَّحْمٰنُ وُدًّا۰۰۹۷ ود پیدا کردے گا۔حل لغات۔وُدٌّ اس محبت کوکہتے ہیںجو محبوب کے ساتھ گہرا اور مضبوط تعلق پیدا کردے اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہوجائیںجس طرح جانور کو کیلے کے ذریعہ زمین کے ساتھ باندھ دیا جاتاہے اسی طرح وُدٌّ میں یہ مفہوم پایا جاتاہے کہ خدا تعالیٰ کاانسان سے ایسا مضبوط تعلق قائم ہوجائے کہ وہ کٹ نہ سکے۔یہ لفظ وَ دٌّ کی شکل میں