تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 459

عیسائیت خدا تعالیٰ کو رحمٰن تسلیم نہیں کرتی اور وہ دنیا کی نجات کےلئے بیٹے کی قربانی کا تصور پیش کرتی ہے۔اگر یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں کے گناہوںکو معاف نہیں کرسکتا تھا اور اس نے اپنے بیٹے کو قربان کرکے لوگوںکوبچالیا تو اس کی رحمانیت کہاں گئی۔یہ بخشش کاکام تو اس کی رحمانیت نے کرناتھا اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ الَرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمٰن:۲،۳) یعنی کلام الٰہی جو بنی نوع انسان کی ہدیت کےلئے نازل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کاہی نتیجہ ہوتاہے۔لوگوں کی گمراہی کودیکھ کر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں آتی ہے اور جس طرح ظاہری عالم میں بغیر مانگنے کے اس نے ہزاروں ہزارنعمتیں پیداکردی ہیں اسی طرح روحانی عالم میں وہ کلام الٰہی نازل کرتاہے جس پرعمل کرکے دنیانجات پاجاتی ہے۔اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ کیونکہ ہرایک جو آسمانوں اورزمین میں ہے وہ (خدائے )رحمٰن کے حضور میں غلام کی صورت عَبْدًاؕ۰۰۹۴ میں حاضر ہونےوالا ہے۔تفسیر۔یعنی جب ہرچیز اس کے تابع فرمان ہے توپھر بیٹے کی کیا ضرورت ہے بیٹا تو اس لئے ہوتاہے کہ وہ اپنے باپ کی مدد کرے یاباپ کی موت کے بعد اس کے نام کوزندہ رکھے جب خدتعالیٰ کی کسی کی مدد کی احتیاج نہیں اور ہر چیز پر اس کی دائمی حکومت ہے توپھر بیٹے نے کس پرحکومت کرنی ہے۔لَقَدْاَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ۰۰۹۵ (خدا نے)ان کوگھیر رکھاہے اور گن رکھاہے۔تفسیر۔یہ پہلی آیت کی تشریح ہے اور مراد یہی ہے کہ جب ان میں سے ایک ایک کی گنتی خدا تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے تو اسے بیٹے کی کیاضرورت ہے بیٹے کی احتیاج تو تب ہوتی جب کوئی کام ایسا بھی ہوتاجسے وہ خود سرانجام نہ دے سکتا۔