تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 455
وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ۰۰۸۹ اور یہ (لوگ) کہتے ہیںکہ (خدائے )رحمٰن نے بیٹابنالیاہے تفسیر۔فرماتا ہے یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہیں مسیح کی شفاعت حاصل ہوگی۔حالانکہ ان کومسیح کی شفاعت کس طرح حاصل ہوسکتی ہے مسیح ؑ تو ہمارا موّحد بندہ تھا اور یہ مسیح کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہرارہے ہیں جب یہ ہمارے موحد مسیح ؑکے ساتھ مشابہت ہی نہیں رکھتے تو انہیںاس کی شفاعت کس طرح حاصل ہوسکتی ہے۔شفاعت مثیل کے لئے ہوسکتی ہے اوریہ اس کے مثیل نہیں۔یہ لوگ مسیح کی تعلیم کے سراسر خلاف خدائے رحمٰن کی طرف ولد منسوب کررہے ہیں۔حالانکہ رحمٰن اور ولد ہونا متضاد ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ رحمٰن ہے اس کایہ مطلب نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو رحمٰن مانتے ہیں وہ ایسانہیںمانتے لیکن دلیل کا ایک طریق یہ بھی ہوتاہے کہ خواہ مخالف مانے یانہ مانے جب ایک واقعہ ظاہر ہو تو اس واقعہ ثابتہ کے ساتھ نتیجہ کو ملادیا جاتاہے۔یہاں بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔بے شک وہ نہیں مانتے کہ خدارحمٰن ہے مگر چونکہ حقیقت یہی ہے کہ وہ رحمان ہے اور رحمن خداولد کا محتاج نہیں ہوسکتااس لئے عیسائیوں کا دعویٰ یقینا غلط ہے اور اس غلط ادّعا کے بعد یہ امید رکھنا کہ ہمارے حق میںشفاعت ہوگی بڑی بھاری غلطی ہے۔لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْـًٔا اِدًّاۙ۰۰۹۰ (توکہہ دے ) تم ایک بڑی سخت بات کہہ رہے ہو۔حلّ لُغَات۔اِدًّا کے معنی ہیں اَمْرًا مُنْکَرًا یَقَعُ فِیْہ جَلْبَةٌ (مفردات) ایساناپسندیدہ امرجس پر لوگوںمیں شورمچ جائے۔دنیا میں ناپسندیدہ اعمال کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ناپسندیدہ امر ایساہوتاہے جس کو لوگ دیکھتے ہیںتو ہنس کے چلے جاتے ہیں۔ایک ناپسندیدہ امر ایسا ہوتاہے جس کو لوگ دیکھتے ہیں تو اغماض کر لیتے ہیں۔ایک ناپسندیدہ امر ایسا ہوتاہے جس کو لوگ دیکھتے ہیںتو گھورتے ہوئے چلے جاتے ہیں لیکن ایک ناپسندیدہ امر ایسا ہوتاہے جس کو لوگ دیکھتے ہیںتو شور مچادیتے ہیں کہ یہ کیا ہوا۔اِدًّا کے معنے ایسے ہی ناپسندیدہ فعل کے ہیںجس کو فطرت تسلیم کرنے سے انکار کردے اور لوگوں میں شور برپا ہوجائے کہ یہ کیا ہوگیا۔