تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 447
مفہوم رکھتاہے تو خواہ اس سے بھی بڑھ کرعجیب وغریب حدیثیں آجائیں وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ وہاں کی روحانی کیفیات کا یہ ایک ظاہری نقشہ صرف ہمیں سمجھانے کے لئے کھینچاگیاہے۔ورنہ ہر ظاہر ایک باطن بھی رکھتاہے اور اصل چیز وہی باطن ہے جوخالص روحانی چیز ہے اور مادیات سے بہت بالا ہے۔وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ۰۰۸۷ اور مجرموں کو ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائیں گے۔حلّ لُغَات۔سَاقَ الْمَاشِیَةَ سَوْقًا وَ سِیَاقَۃً وَمَسَاقًا کے معنی ہوتے ہیں حَثَّھَا عَلٰی السَّیْرِ مِنْ خَلْفٍ (اقرب) اس نے سواری کوپیچھے کی طرف سے ہانکا یعنی اسے سونٹامارمار کر چلایا۔اس لئے وہ شخص جو اس لئے مقرر کیا جاتاہے کہ مجرموںکے پیچھے پیچھے چلے اور ان کی نگرانی رکھے یا اونٹوں وغیرہ کے پیچھے چلے اسے سائق کہا جاتاہے۔اور سَاقَ الْحَدِیْثَ کے معنے ہوتے ہیں سَرَدَہُ (المنجد)یعنی اس نے بے تحاشالمبی باتیں شروع کردیں۔تفسیر۔عربی زبان میں جرنیل کوقائد کہتے ہیں اور قائد وہ ہوتاہے جوفوج کے آگے آگے چلتاہے۔یورپین افواج میں جرنیل کا مقام بالعموم پیچھے ہوتاہے پس عربی کے لحاظ سے وہ سائق کہلا ئےگا قائد نہیں سائق جانوروں کے لئے ہوتاہے یامجرموںکے لئے کیونکہ وہ آگے بڑھنے میں خوشی محسو س نہیں کرتے۔جانور کی مرضی ہوتی ہے کہ میںجہاں جانا چاہوں جائوں اور آدمی کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اس سے کام لے یااسے پانی وغیرہ پلانے کے لئے لے جائے۔پس جانور اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے مالک کی مرضی سے چلتاہے۔اسی طرح مجرموں کا بھی جی نہیں چاہتاکہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوں اس لئے ان کےلئے بھی ایک سائق ہوتاہے جو انہیں اپنی نگرانی میں مجسٹریٹ کی طرف لے جاتاہے۔غرض مجرموںکے لئے اور یا پھر جانوروں کے لئے سَاقَ کا لفظ استعمال ہوتاہے چنانچہ سَائِقُ الْاِبِلِ۔اونٹوں کے چرواہے کو کہاجاتاہے اسی طرح کمزوروں کےلئے بھی یہ لفظ استعمال ہوجاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب جنگ کے احکام نازل ہوئے تومومنوں میں سے ایک گروہ کی یہ حالت تھی کہ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ يَنْظُرُوْنَ (الانفال:۷) وہ سمجھتے تھے کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں۔کیونکہ ان کے دلوں میں بار بار یہ خیال اٹھتاتھا کہ ہمیں کہا جاتا تھاکہ رحم کرو۔ہر ایک سے محبت کے