تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 446
زیادہ تر اتارے ہوئے ہوتے ہیں مگر پھر بھی اسے خدامل جاتاہے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تحریر میں نے ایک دفعہ دیکھی جس میں یہ لکھا تھا کہ اے خدا!لوگ کہتے ہیں کہ میں تجھے چھو ڑدوں مگر میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جب ساری دنیا سورہی ہوتی ہے جب میرے دوست اور رشتہ دارمجھ سے علیحدہ ہوجاتے ہیں بلکہ میرانفس بھی مجھے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے اس وقت تو میرے پاس آتاہے اورکہتاہے کہ گھبرانہیںمیں تیرے ساتھ ہوں۔اگر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ السلام کی سوئے ہوئے بھی خدا تعالیٰ سے ملاقات ہوجاتی تھی تو روحانی طورپر اس میں کون سی تعجب کی بات ہے کہ سب مومن خدا تعالیٰ سے اجتماعی طورپر ملیں اور وہ انہیں اپنے اکرام و انعام سے نوازے جب آدمی نیم بےہوشی یاغنودگی کی حالت میں خدا تعالیٰ سے مل سکتاہے تو ننگے بدن یا ننگے پیر ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ سے کیوںنہیں مل سکتا؟ روحانی نقطہ نگاہ سے ایک ہی وقت میں انسان کا ننگے پیر ہونا ننگے بدن ہونااوراس کانامختون ہونا بھی ممکن ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ سے اس کا اعزاز واکرام کے ساتھ ملنا بھی ممکن ہے۔صرف اتنی بات ضرور ی ہے کہ ان امور کو ظاہر ی طورپر دیکھنے کی بجائے انسان روحانی طورپر دیکھنے اورسمجھنے کی کوشش کرے۔بعض دفعہ انسان پیاسا لیٹتاہے اور کشف میں اسے محبت الٰہی کا پیالہ پلایا جاتاہے۔جس سے اس کے ماد ی جسم میں بھی طراوت پیدا ہوجاتی ہے۔اور اس کی پیاس دور ہوجاتی ہے۔اب گو اسے ایک پیالہ پلایا گیا جس سے اس کی پیاس بھی بجھ گئی مگر روحانی نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے ہوںگے کہ ہم نے اس کے دل میں اپنی محبت پیداکردی ہے اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشفی حالت میں پانی اور شراب اور دودھ کے پیالے پیش کئے گئے اور آپ نے صرف دودھ کا پیالہ لے لیا اورپانی اورشراب کا پیالہ رد کردیا۔تو گو دودھ کے پیالہ کی یہ تعبیر تھی کہ آپ کی امت ہلاکت سے بچی رہے گی اوراسے الہٰی علوم سے ہمیشہ حصہ ملتارہے گا(دلائل النبوۃ للبہیقی جلد ۲ باب الاسراء برسول اللہ ) مگر ہم تمثیلی طورپر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے جسم نے اس وقت پیاس محسوس کی جس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کودودھ کا پیالہ دیاگیا اور اس کے پینے سے آپ کواس قدر سیری ہوئی کہ آپ کی پیاس بالکل جاتی رہی۔سارے جھگڑے صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان ان باتوں کوجسمانیات کی طرف لے آتاہے حالانکہ ان کا تعلق جسمانیات سے نہیں بلکہ روحانیات سے ہے۔اگر انسان ہربات کوروحانی نقطہ نگاہ سے دیکھے اور سمجھے کہ ننگے پیر ہونابھی روحانی دنیا میں ایک مفہوم رکھتاہے۔ننگے بدن ہونابھی ایک مفہوم رکھتاہے۔نامختون ہونا بھی ایک مفہوم رکھتاہے گھوڑوں اور اونٹوںپر سوار ہونابھی ایک