تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 442
وَفْدٌ کا لفظ عربی زبان میں اس وقت استعمال ہوتاہے جب کوئی جماعت کسی بادشاہ کے سامنے اپنی حاجات لے کر پیش ہو اور نماز میں روزانہ پانچ وقت مسلمان اجتماعی طور اپنی اغراض لےکر خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں گویا وفد کے اندر جتنی باتیں ضروری ہوتی ہیں وہ مسلمانوںکی نماز میں پائی جاتی ہیں وفد کا لفظ چاہتاہے کہ جماعت ہو۔وفد کا لفظ چاہتاہے کہ اس جماعت کی کوئی غرض ہو اور پھر وفد کا لفظ اس بات کا بھی تقاضا کرتاہے کہ وفد میں شامل ہونےوالوں کا اچھالباس ہو۔کیونکہ انہوں نے بادشاہ کے دربار میں پیش ہوناہوتاہے اور یہ ساری باتیں نماز میں پائی جاتی ہیں نماز جماعت کے ساتھ ہوتی ہے نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضوراپنی حاجات پیش کی جاتی ہیں اورپھر نماز کے متعلق یہ بھی حکم ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر نماز پڑھنی چاہیے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ(الاعراف:۳۲) اے بنی نوع انسان ہر نماز کے وقت زینت کا خیال رکھاکرو اسی لئے شریعت نے حکم دیا ہے کہ نماز سے پہلے وضو کیا جائے صاف ستھرے کپڑے پہنے جائیں۔کوئی بودار چیز نہ کھائی جائے۔پھر جب نماز میں انسا ن کھڑا ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتاہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس وفد کے طور پر پیش ہونےکی بہترین صورت نماز ہے۔اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ اس دن ہم مومنوں کے دلوں میں خود تحریک پیداکریںگے کہ ان کی تباہی کے لئے ہم سے دعائیںکرو۔اگر اس آیت کومرنے کے بعد کی زندگی پر چسپاں کیا جائے تو يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ بعث بعد الموت دو قسم کی ہے ایک بعثت فردی اور ایک بعثت اجتماعی۔قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ ہر انسان کو مرنے کے بعد ایک زندگی ملتی ہے مگر وہ فردی زندگی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جیسا کہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور حدیثوں میں بھی اس کی تفصیل آتی ہے ایک ایسی بعثت ہوگی جس میں تمام کے تمام انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اکٹھے کئے جائیںگے۔اور وہ بعثت اجتماعی اس بعثت فردی سے کچھ فرق رکھتی ہوگی(ترمذی ابواب صفة القیامة باب ما جاء فی شان الحشر)۔وہ لوگ جنہوںنے پورا غور نہیں کیا ان کے دماغ مشوّش ہوجاتے ہیں کہ ادھر تو کہتے ہیںکہ موت کے معاًبعد ایک نئی زندگی شروع ہوجاتی ہے اور اُدھر کہتے ہیںکہ ایک دن ساری دنیا اکٹھی ہوگی ان دونوںہاتھوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا؟ یہ اعتراض اسی لئے پید اہوتاہے کہ انہوں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ بعثتیں دو قسم کی ہیں ایک بعثت وہ ہے جو موت کے معاً بعد شروع ہوجاتی ہے اور جس میں انسان اگلے جہان کے انعامات یا عذاب محسوس کرنے کے لئے نئی طاقتیں حاصل کرتاہے۔مگر اس کی یہ حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی کی طفولیت یا بچپن کا زمانہ ہوتاہے اس کے بعد جب سارے انسانوں کومجموعی طور پر ایسی طاقت حاصل ہوجائے گی کہ وہ وہاں کے ثواب اور عذاب کو کامل طور پر محسوس کرسکیں اور ان کی حالت ایک جوان بالغ مرد کی سی ہوجائےگی جو دنیا کی نعمتوں سے پوری طرح حظ اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس وقت تمام انسانوں کا حشر ہوگا جس میں مومن بھی شامل ہوںگے اور کافربھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آل فرعون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا١ۚ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (المومن:۴۷) یعنی آل فرعون پر صبح اور شام آگ پیش کی جاتی ہے لیکن جب قیامت کا دن آئے گاتو ہماری طرف سے حکم دیا جائے گا کہ آل فرعون کو اس سے بھی زیادہ شدید عذاب میں داخل کردو۔اسی طرح حدیثوں میں آتاہے کہ قیامت کے دن تمام لوگوں کو دوزخ پر سے گذرنا پڑےگا جہاں ایک پل بچھایاجائے گا جو تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوگا بعض لوگ تو اس پر سے بجلی کی طرح گذر جائیںگے۔بعض ہوا کی سی تیزی اختیار کریں گے اور گذرجائیںگے بعض پرندوں کی طرح اڑتے ہوئے گذر جائیںگے بعض گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہوئے گذرجائیںگے بعض گھسٹتے ہوئے لولوں لنگڑوں کی طرح گزر جائیں گے اور کافر اور منافق کٹ کر نیچے گریں گے اور جہنم میںجاپڑیں گے(مستدرک کتاب التفسیر)۔غرض ایک حشر اکٹھا ہوگااور ایک انفرادی ہوگا یہ آیت اجتماعی حشر پردلالت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ صرف انفرادی بعث ہی نہیں بلکہ ایک اجتماعی بعث بھی مقدر ہے۔