تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 441

عیسائیوںنے حاصل کیں اور دنیوی ترقیات کے متعلق ایک مومن کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ جب یہ لوگ مر جائیںگے تو انہیںاگلے جہان میں عذاب دیا جائے گا بلکہ اس کے دل میں یہی خیال آتاہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کومیرے سامنے ذلیل کرے اور اسلام کوفتح عطافرمائے بیشک وہ معنے ہم نظر انداز نہیںکرسکتے لیکن جب ساری سورۃ میں عیسائیوںکے دنیوی عروج اور ان کی شان و شوکت کا ذکر کیا گیاہے تواس کے بعدیہ بات کتنی پھسپھسی نظر آتی ہے کہ الٰہی ان کا قیامت کے دن بیڑہ غرق ہو۔اگر ان کا اگلے جہان میں ہی بیڑہ غرق ہونا ہے تو دنیا ہماری اس بات کو کس طرح مانے گی۔وہ تو یہی کہتی رہے گی کہ انہوں نے بڑے مزے اٹھائے ہیں۔پس لازماًہمیں اس کے ایسے معنے کرنے پڑیںگے جو اس دنیا پر بھی چسپاں ہوسکیں لیکن چونکہ الفاظ ایسے ہیں جو اگلے جہان پر بھی چسپاں ہوجاتے ہیں اس لئے ہم یہ معنے بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ اس دن مومن خدا تعالیٰ کے حضور اجتماعی طور پر حاضر ہوںگے اور انعام واکرام سے نوازے جائیںگے لیکن پہلے ہمیں اسی دنیاپر اس آیت کو چسپاں کرنا پڑے گا اورجب ہم اس آیت کودنیاپر چسپاں کریں تو يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں ہوسکتے کہ جب ہمارے فیصلہ کا وقت آئے گا تو اس وقت ہم خود مومنوں کے دلوں میں القاء کریں گے کہ اب ان کی ہلاکت کے لئے اجتماعی طورپر دعائیں مانگو۔ہم روزانہ نمازیں پڑھتے ہیں جن میںتمام مومن اکٹھے ہوکر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوجاتےہیں یہی حشرہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ اس د ن ہم سب مسلمانوں کو خدائے رحمٰن کی طرف اکٹھا کرکے لے جائیں گے یعنی اس دن ان کے دلوںمیں ہم ایک آگ لگادیں گے اورانہیںکہیںگے کہ اب وہ وقت آگیاہے جس کا تم انتظار کر رہے تھے۔آئو اورہم سے دعائیں مانگو تاکہ ہم اس قوم کے خلاف اپنے فیصلہ کونافذ کردیں۔وَفْدٌ کا لفظ عربی زبان میں اس وقت استعمال ہوتاہے جب کوئی جماعت کسی بادشاہ کے سامنے اپنی حاجات لے کر پیش ہو اور نماز میں روزانہ پانچ وقت مسلمان اجتماعی طور اپنی اغراض لےکر خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں گویا وفد کے اندر جتنی باتیں ضروری ہوتی ہیں وہ مسلمانوںکی نماز میں پائی جاتی ہیں وفد کا لفظ چاہتاہے کہ جماعت ہو۔وفد کا لفظ چاہتاہے کہ اس جماعت کی کوئی غرض ہو اور پھر وفد کا لفظ اس بات کا بھی تقاضا کرتاہے کہ وفد میں شامل ہونےوالوں کا اچھالباس ہو۔کیونکہ انہوں نے بادشاہ کے دربار میں پیش ہوناہوتاہے اور یہ ساری باتیں نماز میں پائی جاتی ہیں نماز جماعت کے ساتھ ہوتی ہے نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضوراپنی حاجات پیش کی جاتی ہیں اورپھر نماز کے متعلق یہ بھی حکم ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر نماز پڑھنی چاہیے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ