تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 440

یہ امر بھی یادرکھنا چاہیے کہ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ کے یہ معنے نہیںکہ ان کے خلاف کسی قسم کی دعا نہیںکرنی چاہیے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ مومنوں کو گھبرانا نہیں چاہیے اور مایوس نہیں ہوناچاہیے ورنہ بعض قسم کی دعائیں ایسی ہیں جو اصولی رنگ میں جائز ہیں۔مثلاًیوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ عیسائیوں کی طاقت کو توڑدے بالکل جائز ہوگا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دعاکی اور فرمایا کہ ؎ یَارَبِّ سَحِّقْھُمْ کَسَحْقِکَ طَاغِیًا وَ اَنْزِلْ بِسَاحَتِھِمْ بِھَدْم مَکَانِہِمْ (نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۱۲۶) مگر یہ اصولی دعا ہے ان کے کسی خاص فعل کے متعلق نہیںکہ چونکہ انہوں نے فلاں حملہ کیا ہے اس لئے انہیں تباہ کیاجائے۔محض اصولی رنگ میں خدا تعالیٰ سے اس خواہش کا اظہار کیاگیا ہے کہ وہ عیسائیوں کی طاقت کو توڑدے۔اس رنگ میں عیسائیت کے خلاف دعائیںبھی کی جاسکتی ہیں مگر ان کے کسی خاص فعل پر بددعا کرنا جائز نہیں ہوگا۔بہر حال فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ میں جہاد کے مسئلہ کو بالکل واضح کردیا گیاہے اوراللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہم نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے اورہم ان کی ہلاکت کی گھڑیاں گن رہے ہیںجب وہ وقت آئے گا توہم خود پکڑ لیں گے تم ان کے مقابلہ میںکیا کرسکتے ہو تم سے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتاجو کچھ کرنا ہے ہم نے ہی کرنا ہے۔يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ۰۰۸۶ جس دن ہم متقیوں کو زندہ کرکے (خدائے )رحمٰن کے حضور میں اکٹھا کرکے لے جائیںگے۔حلّ لُغَات۔وَفْدٌ کی تشریح کرتے ہوئے مفردات والے لکھتے ہیںکہ ھُمُ الَّذِیْنَ یَقْدَمُوْنَ عَلی الْمُلُوکِ مُسْتَنْجِزِیْنَ الْحَوَائِـجَ یعنی وفد سے وہ لوگ مراد ہوا کرتے ہیں جو بادشاہوں کے پاس اس غرض کے لئے جاتے ہیں کہ اپنی حوائج اور ضروریات ان سے پوری کروائیں۔تفسیر۔جہاں تک اگلے جہان کا سوال ہے اس میںکوئی شبہ نہیںکہ یہ آیت بھی اور اس سے اگلی آیات بھی اگلے جہان پر چسپاں ہوجاتی ہیں اوراس صورت میں ہم اس آیت کے یہ معنے لے لیں گے کہ قیامت کے دن سب مومن خدا تعالیٰ کے سامنے اجتماعی طور پر پیش ہوںگے لیکن سوال یہ ہے کہ اس جگہ ان دنیوی ترقیات کا ذکر ہے جو