تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 439
آپ نے فرمایا کہ جب مسلمانوں کے پاس کسی قسم کی طاقت ہی نہیں تو ان پر جہاد بالسیف کس طرح فرض ہو سکتا ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے گا مسلمانوںکو ان کے مقابلہ کی طاقت عطافرمادے گا۔بہرحال آپ نے جہاد کے متعلق مسلمانوں کے رائج الوقت خیالات کی تردید فرمائی اور یہی وہ حقیقت ہے جو لَا تَعْجَلْ میں بیان فرمائی گئی ہے۔اصل با ت یہ ہے کہ اس سورۃ میں مسیحیوں کی جن ترقیات کا ذکر کیا گیاہے وہ آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھیں بلکہ حدیثوں اور قرآن میں انہیں آخری زمانہ کے ساتھ وابستہ کیا گیاہے پس لَا تَعْجَلْ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاوجود نہیں بلکہ آئندہ زمانہ کا مسلمان مراد ہے اور بتا یاگیا ہے کہ وہ ایک وقت مسیحیوں کی ترقی کو دیکھ کر ان سے جہاد کرنے کے شوق میں مبتلا ہوجائے گا چنانچہ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ جس زمانہ میں مسیحیت مسلمانوں کا شکار تھی اور ان کو اس سے مقابلہ کرنےکی طاقت تھی اس وقت تک تو مسلمان ان کی طرف سے غافل رہے اور جب مسیحیت دنیا میں پھیل گئی تو انہیںجہاد کا خیال آیا حالانکہ اس وقت خدا کی مشیت نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا والی ظاہر ہوچکی تھی اور اس علم کے بعد مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ سابق غفلت پر استغفار کرتے اور آئندہ کےلئے اللہ تعالیٰ سے مجملا ًدعا کرتے کہ ان کے فتنہ سے مسلمانوں کو بچائے اور جہاد بالقرآن شروع کردیتے تاکہ سابق غفلت کا ازالہ ہوجاتا اور قرآن کریم کی برکت سے مسیحیت کی طاقت ٹوٹ جاتی مگر انہوں نے جہاد بالسیف کا بے موقع اظہار کرکے مسیحیوںکو اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کاموقع دیا اور اس سے متاثر ہو کر ہزاروں مسلمان مسیحی ہوگئے۔اِنَّاللہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔حضرت مسیح موعود ؑ ایک ہی شخص تھے جنہوں نے اس نقص کی طرف توجہ دلائی۔مگر اس وجہ سے ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے اور کہا گیا کہ یہ شخص اسلامی ترقی کادشمن ہے (اشاعۃ السنۃ النبویۃ جلد ۱۳ نمبر ۴ تا ۱۲ ۱۸۹۰ء صفحہ ۵ تا ۱۴۸)۔حالانکہ اسلامی ترقی کاواحد ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کی صحیح تعلیم کی اشاعت تھا تاکہ خود مسیحیوں میں سے ایک حصہ کو جیتاجائے اورباقی حصہ کے دل سے غلط فہمیاں دور کی جائیںمگر افسوس کہ اس خدمت کی وجہ سے آپ کو اتنی گالیاں مسلمانوں نے دیں کہ شاید کسی مامور کو اتنی کثرت سے اوراس مقدار میںگالیاں نہ ملی ہوںگی۔میں سمجھتاہوں کہ جتنی گالیاں اس زمانہ کے علماء نے ایک ایک دن اور ایک ایک جلسہ میں بانی ءِسلسلہ احمدیہ کو دی ہیںاس قدر گالیاں سابق ماموروں کو شاید دس دس سال میں بھی نہ ملی ہوںگی۔بلکہ گذشتہ زمانہ کے علماء کی زبان پر ایسا گند کبھی آیا ہی نہ ہوگا۔اس ظلم کا بدلہ قیامت کے دن ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے لیں گے۔وہ خود ان ظالموں پراپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے اورہمارے دلوں پر تسکین کا مرہم رکھیںگے۔انشا ء اللہ تعالیٰ۔