تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 438
اجازت ہے کہ ہم دشمن کے حملوں کا دفاع کریں۔ہمیں اجازت ہے کہ ہم اس کے خلاف جائز اور مطابق قانون تدابیر اختیار کریں لیکن جب نظر آجائے کہ خدااپنی عام سنت کے خلاف ایک کام کررہا ہے تو اس وقت یہی حکم ہوتاہے کہ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ۔اس وقت بددعا کرنا بھی منع ہوتاہے۔اس وقت تدبیریں کرنابھی منع ہوتاہے۔اس وقت صرف اتنا ہی حکم ہوتاہے کہ دشمن کے حملوں کو برداشت کرو اور صبر سے کام لو۔حقیقت یہ ہے کہ دشمن جب شرارت میں حد سے بڑھ جاتاہے تومومن گھبراجاتے ہیںاور کبھی گھبراکر اظہار غیرت کرتے ہیں کبھی نبی یا اس کے خلفاء سے کہتے ہیں کہ دشمن کی تباہی کی دعامانگو کبھی جہاد کا فتویٰ دیتے ہیں۔لیکن بسا اوقات ان کی تباہی ایک سکیم کے ساتھ مقدر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تسلی دیتاہے کہ جلدی نہ کرو وقت پر سب کام ہوجائےگا اور ان کی سزا خدا تعالیٰ کی طرف سے آجائے گی۔اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا تمہاری یہ حالت ہے کہ تم سو بھی جاتے ہو۔تم دشمن سے غافل بھی ہوجا تے ہو لیکن ہمیں تو ان کی یہ باتیں اتنی بر ی لگ رہی ہیں کہ ہم خود ان کی تباہی کی گھڑیاں گن رہے ہیں۔جب ہماری حالت یہ ہے کہ ہم خود ان کی گھڑیاں گن رہے ہیں۔کہ کب وقت آئے اور ہم ان کی گردن مروڑ کر رکھ دیں تو تم کیوں جلدی کرتے ہو۔تم میںتو طاقت ہی نہیںکہ ان کامقابلہ کرسکو۔دیکھو اس جگہ جہاد کے متعلق کیسی واضح اور اہم ہدایت دی گئی ہے اورکس طرح اس عظیم الشان نظر یہ کی تائید کی گئی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے موجود زمانہ میںجہاد کے متعلق پیش فرمایا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب مسلمانوںکا ایک حصہ یہ کہے گا کہ اسلام کی ترقی اب اسی طرح ہوسکتی ہے کہ ان کفار سے جہاد کیاجائے اور انہیں تلوار کے زور سے مٹانے کی کوشش کی جائے۔مگر ان کی یہ رائے بالکل غلط ہوگی۔صحیح اور درست راستہ یہی ہوگا کہ ان کے مقا بلہ میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور ان کے حملوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیاجائے اور صرف روحانی تدابیر اختیا رکی جائیںیعنی تبلیغ اسلام اور دعائیںوغیرہ۔چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام جو خدا تعالیٰ کی طر ف سے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے انہوں نے لوگوں کے سامنے یہی اعلان فرمایا کہ ؎ یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافر وں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۷۸)