تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 432

عبادت کیا کرتے تھے۔غرض اس آیت میں ضمائر دونوں طرف جاسکتی ہیں۔یہ معنے بھی ہوسکتے ہیںکہ مشرک اپنی عبادت کا انکار کریںگے اور اپنے معبودوں کے خلاف کھڑے ہوجائیںگے اور ان کا انکار کریںگے جیسا کہ سورئہ اعراف میں آتاہے کہ جب فرشتے مشرکوں کی جان نکالتے ہیں توان سے پو چھتے ہیں کہ ماسوی اللہ معبود اب کہاں ہیں تو وہ کہتے ہیں ضَلُّوْا عَنَّا(الاعراف:۳۸)وہ تو کہیںبھاگ گئے ہیںآج ہمیں نظر نہیںآتے۔اسی طرح یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ معبودان باطلہ ان لوگوں کی عبادت کا انکار کریں گے اور مشرکوں کے خلاف گواہی دیں گے جیسا کہ سورئہ قصص ہی کی آیت اوپر لکھی جاچکی ہے۔اسی طرح معبودوں کے متعلق قرآن کریم میں ایک اورجگہ آتاہے کہ وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ(النحل:۸۷) یعنی جب وہ مشرک لوگ جو شرک کیا کرتے تھے اپنے معبودان باطلہ کو دیکھیںگے تو کہیں گے کہ حضور !یہ ہیں وہ معبود جن کو ہم تیرے سوا پوجا کرتے تھے۔انہوں نے ہم کو خراب کیا ہے۔وہ معبود کہیں گے کہ یہ خبیث بالکل جھوٹ بولتے ہیںہم نے انہیں خراب نہیںکیا۔یہ آپ اپنی اغراض کے لئے شرک کرتے رہے ہیں۔گویا وہی معبود جن کو آج عزت کا موجب سمجھا جاتاہے اس دن ان کے لئے ذلت کا موجب ہوجائیںگے۔اسی طرح سورئہ انعام میںآتاہے وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۔ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ (الانعام :۲۳،۲۴)یعنی اس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے معبود جن کے متعلق تم کہا کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں اس پر سوائے اس کے ان کااور کوئی جواب نہیں ہوگا کہ حضور ہم ان خبیثوں کو کیا جانتے ہیں ہم نے تو کبھی شرک نہیںکیا۔اسی طرح سورئہ یونس میں آتاہے۔وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ (یونس:۲۹) یعنی اس روز معبودان باطلہ ان سے کہیںگے کہ تم نے توہمار ی کبھی پرستش نہیںکی۔سورئہ روم میں بھی مشرکوں کے متعلق آتاہے کہ وَکَانُوْا بِشُرَکَاءِھِمْکٰفِرِیْنَ (الروم:۱۴) مشرک اپنے معبودان باطلہ کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے ان کو کبھی اپنا خدا نہیں مانا۔وَ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا میں اوپر بتاچکا ہوںکہ ضد کے ایک معنے معاون کے بھی ہیں۔پس اس آیت کے معنے