تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 431

كَلَّا١ؕ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّاؒ۰۰۸۳ ایسا ہرگزنہیں ہوگا وہ معبود ایک دن ان کی <mark>عباد</mark>توں کا انکار کریںگے اور ان کےخلاف کھڑے ہو جائیں گے۔حلّ لُغَات۔ضِدٌّ کے معنے مخالف کے بھی ہیں اور ضد کے معنے معاون کے بھی ہیں مگر دونوں صورتوں میں معنے ایک ہی ہیں یعنی ان کے خلاف ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے یا ان کے خلاف سچائی کے مدد گار بن کر کھڑے ہوںگے۔تفسیر۔کَلَّا کہہ کربتایا کہ ان بت پرستوں کی بڑی غرض تو یہ ہے کہ انہیں عزت حاصل ہو مگر یہ بت ان کے لئے عزت کاموجب نہیں بلکہ ذلت کاموجب ہوں گے اور یہ لوگ خود اپنے منہ سے ان کی <mark>عباد</mark>ت کا انکار کریں گے اور یہ بھی کہ وہ معبود ان کی <mark>عباد</mark>ت کا انکار کریں گے گویا سَيَكْفُرُوْنَ میں جو ضمیر استعمال کی گئی ہے یہ بتوں کی پرستش کرنےوالوںکی طرف بھی جاتی ہے اور ان کے معبودوں کی طرف بھی جاتی ہے اس کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ سَیَکْفُرُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں سَیَکْفُرُوْنَ الْمَعْبُوْدُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْیعنی بتوں کی <mark>عباد</mark>ت کرنے والے خود اپنے منہ سے ان کی <mark>عباد</mark>ت کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے ان کی کبھی <mark>عباد</mark>ت نہیں کی یا یہ کہ معبود ان کی <mark>عباد</mark>ت کا انکار کریں گے اور کہیں گے یہ با لکل جھوٹ بولتے ہیں انہوں نے ہماری <mark>عباد</mark>ت نہیںکی بلکہ ان کے سامنے ان کی اپنی اغراض اور شہر تیں تھیں جن کے لئے یہ <mark>عباد</mark>ت کرتے رہے قرآن کریم میں یہ دونوں معنے استعمال کئے گئے ہیںچنانچہ سوئہ بقرہ میں<mark>اللہ</mark> تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا (البقرة:۱۶۷،۱۶۸) یعنی جس دن وہ لوگ جن کی فرمانبرداری اور اطاعت کی جاتی تھی ان لوگوں سے جوان کی اطاعت کا دم بھرتےتھے اپنی برات اور نفرت کا اظہار کریںگے اور وہ خدائی عذاب کواپنی آنکھوںسے دیکھ لیںگے اور ہر قسم کے اسباب کو منقطع پائیںگے تووہ لوگ جو اس دنیا میں ان کی اتباع کرتے رہے ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر کہیںگے کہ اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں لوٹادیا جائے تو ہم ان سے اسی طرح بیزاری اور نفرت کااظہار کریں جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ہورہے ہیں۔اسی طرح سورئہ قصص میںفرماتا ہے کہ معبود ان باطلہ کہیں گے تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ١ٞ مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ (القصص: ۶۴) یعنی اے خدا ہم تیرے سا منے اپنی برات کا اظہار کرتے ہیں یہ لوگ ہماری نہیں بلکہ اپنے نفسوں کی