تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 430

لئے و ہ کسی درباری کا درباری بن جاتاہے تاکہ اس کے خادموں میںشامل ہوکر خداکے دربار میں چلا جائے۔وہ سمجھتاہے میں بہت گنہگار ہوں میں خدا کے دربار میں کہاں پہنچ سکتاہوں۔یہ بت بڑی شان رکھتے ہیں میں ان کی عبادت کروں گا تو ان کے غلاموں اور خادموں میں شامل ہوکر میں بھی خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچ جائوں گا۔جیسے ڈپٹی کمشنر کہیںجاتاہے تو اس کاچپڑاسی بھی اس کی وجہ سے بڑے بڑے افسروںتک پہنچ جاتاہے۔بت پرست بھی سمجھتاہے کہ میںاس بت کی عبادت کرکے اس قابل ہوجائوںگا کہ خدا تعالیٰ کے دربار میںبیٹھ سکوں مگر خدا تعالیٰ جو حاضر وناظر ہے وہ اس کا حاجت مند نہیں اس کا دروازہ ہر اک کےلئے کھلاہے اسی مضمون کی طرف قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ (الزمر:۴)یعنی دوسرںکی شرکت میں میں عبادت قبول کرنے کو تیار نہیں خدا تعالیٰ کے سوا جو لوگ دوسروں کو پوجتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیںکہ ہمیں وہ خدا تعالیٰ کے قریب کردیں یعنی وہ خداکے مقرب ہیںجب ہم ان سے تعلق پیدا کریںگے تو ان کے ذریعہ سے ہم بھی خدا کے دربار میں چلے جائیںگے فرماتا ہے یہ اچھے درباری ہیں کہ ایک دوسرے سے لڑائی ہورہی ہے اورایک بت کے نام پر دوسرے پرچڑھائی کی جارہی ہے۔خداکے قرب میں تو وہ جائیںگے مگر درباری کے طورپر نہیں بلکہ ملزم کے طور پر اور خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا کہ ان کے دعوے کیا حقیقت رکھتے تھے اور یہ لوگ دوجرموں کے مرتکب ہیں۔اول جھوٹے کہ اپنے منہ سے بتوں یا اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوںکی طرف وہ باتیں منسوب کرتے ہیںجو ان میںنہیںہیں۔دوسرے خدا تعالیٰ کے احسانوں کے سخت منکر ہیں کہ وہ توایسا بلند شان ہو کر ان کو نوازتاہے اوریہ جھوٹے معبودوں کی پناہ لیتے پھرتے ہیں۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ میں کاذب کہہ کر ان کو جھوٹا بتایا کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بتوں میں کوئی طاقت نہیںپائی جاتی اور پھر ان کی طرف خدائی طاقتیں منسوب کرتے ہیں اورکفار کہہ کر بتایا کہ وہ بڑے ناشکرے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے متواتر احسانات کو دیکھتے ہیں اورپھر خدا تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی بجائے اپنے جھوٹے معبووں کی پناہ ڈھونڈرہے ہیں۔