تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 429

دیکھو کہ وہ کتنی سادہ ہوتی ہیں۔خانہ کعبہ کتنی سادگی کا مظہر ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کتنی سادہ ہے۔ہر انسان سمجھ سکتاہے کہ جو شخص اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جائے گاوہ خالص خدا تعالیٰ کی عبادت کےلئے جائے گا۔ہیرے اور جواہرات اور سونے اور چاندی کےلئے نہیں جائے گا۔اسی طرح جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر دعا کرنے کے لئے جائے گا وہ صر ف عقیدت اور محبت کے جذبات کے ساتھ وہاں جائے گا۔کوئی بلند و بالااور شاندار عمارت دیکھنے کے لئے وہاں نہیںجائے گا۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے بھی اب مساجد کو فخرو مباہات کا ذریعہ بنالیا ہے۔مسجد کی ضرورت ہو یانہ ہو وہ محض اپنے نام اور نمود کے لئے بڑی بڑی مسجدیں بنادیتے ہیںاور پھر ہزاروں روپیہ خرچ کرکے ان پر نقش ونگار کرتے اور بڑے بڑے بیل بوٹے بناتے ہیں۔حالانکہ ان کے اندر نماز پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔میں مصرکی جامع مسجد دیکھنے کےلئے گیا تو میں نے دیکھا کہ محراب کو چھوڑ کر مسجد کے ایک کونہ میں چند آدمی نماز پڑھ رہے ہیں۔امام سمیت غالباًوہ چار یا پانچ آدمی تھے جب وہ نماز پڑھ چکے تومیں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہاں نماز ہوچکی ہے اور آپ لوگ پیچھے رہ گئے تھے ؟انہوں نے کہا نہیں یہی امام صاحب اس مسجد کے امام ہیں اور ہم ان کے مقتدی ہیں۔میں نے کہا تو پھرآپ محراب چھوڑ کر ایک کونہ میں نماز کیوں پڑھ رہے تھے؟کہنے لگے کیا کریں شرم آتی ہے کہ اتنی بڑی مسجد میںہم صرف تین یاچار آدمی نماز پڑھنے والے ہیں۔اسی شرم کے مارے ہم محراب میںکھڑے نہیں ہوتے ایک کونہ میں نماز پڑھ لیتے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص ہمیں دیکھ لے تو وہ یہی سمجھے کہ یہ نماز سے پیچھے رہ گئے تھے۔غرض مسلمانوں میں بھی آج کل یہ نقص پیدا ہوچکا ہے کہ وہ نماز کی طرف تو توجہ نہیںکرتے اور بڑی بڑی مسجدیں بنادیتے ہیں حالانکہ مسجد کی خوبی اس کی سادگی میں ہے اور اسلام نے اسے روحانی زینت کا موجب بنایا ہے اس لئے نہیں بنایا کہ اسے فخرو مباہات کاموجب بنالیاجائے۔ہاں نمازیوں کے لئے صفائی اور گنجائش اور صحت کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ یہ زینت نہیں ضرور ت ہے۔غرض فرماتا ہے وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا یہ لوگ بڑے بڑے بت بناتے ہیںان بتوں کے معبد بناتے ہیں ان پر میلے لگاتے ہیں تاکہ لوگوں میں ان کی شہرت ہو اوروہ تعریف کریںکہ فلاں کا بت بڑا شاندار ہے یافلاں نے بڑاشاندار میلہ لگایا ہے۔اس کے علاوہ لِيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا میں ا س طرف بھی اشارہ کیاگیاہے کہ بت پرست بت کو ذریعہءِ شفاعت قرار دیتاہے اور اسے خدا تعالیٰ کے حضور میںقرب کا موجب بناتاہے اس کے نزدیک وہ خود حضور دربار کااہل نہیںاس