تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 411

اب اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے غور کر و کہ ایک نبی جب دنیا میں آتاہے اور غیب کی خبریں لوگوں کو بتاتاہے تو وہ یہ نہیں کہتاکہ میں ایسا کہتا ہوں۔بلکہ کہتاہے کہ خدا نے مجھے یہ بات کہی ہے۔اگر اسے ذاتی طور پر غیب کا علم حاصل ہوتو غیب کی خبریں اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔وہ اسی لئے ان خبروں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتاہے کہ اسے کامل یقین ہوتاہے کہ خدا نے ہی اسے یہ خبر یں بتائی ہیں ورنہ وہ اپنی خوبی کسی اور کی طرف کیوںمنسوب کرے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ غیب کی خبریں پوری بھی ہوجاتی ہیں اور اس طرح جہاں اس کی اپنی نبوت کی سچائی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور پتہ لگ جاتاہے کہ ا س کا خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہے وہاں یہ بھی پتہ لگ جاتاہے کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جو علم غیب جانتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا حی و قیوم ہونا ہے۔ایک بیمار مرنے لگتاہے۔اس کی نبضیں چھوٹ جاتی ہیںکہ خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اسے ہاتھ لگاتاہے اور اس میں زندگی کے آثار از سر نو ظاہر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔اس کا سانس درست ہو جاتاہے۔اس کے حواس قائم ہوجاتے ہیں اوراس کی کھوئی ہوئی طاقت پھر واپس آجاتی ہے۔دیکھنے والا دیکھتاہے اورا س بات پر ایمان لاتاہے کہ ہمارا خداحی وقیوم ہے۔کیونکہ اس شخص میں طاقت نہیں تھی کہ اسے اچھا کرتالیکن اس کی دعااور توجہ سے ایک مردہ جسم میں بھی جان پڑگئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا خدا حی و قیوم ہے یا مثلاً ایک شخص کے ہاں اولاد نہیںہوتی تھی سالہاسال گذر گئے اوراس کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔خدا تعالیٰ کے ایک نبی یا اس کے کسی برگزیدہ بندہ نے اس کے لئے دعاکی اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا۔یہ نشان اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ہمارا خداخالق ہے پس آیات ان نشانات کو کہتے ہیں جو کسی اعلی شئے کے ثبوت کے لئے ظاہر ہوتے ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے لئے یانبوت انبیا ء وغیرہ کے سمجھانے کے لئے گویاکوئی اہم مقصد ان کے سامنے ہوتاہے۔بے موقع اور لغو طور پروہ ظاہر نہیں ہوتے۔جیسے لوگوںمیں مشہور ہے کہ مکہ میں گدھوں والے جب مکہ سے باہرجاتے ہیں تو گدھوں پرپتھر لاد کرلے آتے ہیں مگر جب مکہ میں پہنچتے ہیں تووہ پتھر تربوز بن جاتے ہیں اب پتھروں اور تربوز کا آپس میں کوئی جوڑ نظر نہیںآتا اورنہ اس نشان کی کوئی ضرورت نظر آتی ہے لیکن اس نشان میں ہمیں ضرور جوڑ نظر آتاہے کہ خدا نے کہا کہ خانہ کعبہ محفوظ رہے گا۔ابرہہ آیا اور وہ اپنی ساری طاقت اورقوت کے باوجود شکست کھا گیا یارسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میںجبکہ کوئی بھی آپ کےساتھ نہیںتھاخبردی کہ میں جیت جائوںگا اور پھر مکہ والوں کی سرتوڑ مخالفت کے باوجود آپ جیت گئے اور آپ کے دشمن ناکام ونامراد رہے یہ آیتیں ہیں جوبتاتی ہیں کہ خداہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سچے رسول ہیںاورایک طاقتور ہستی ان کی