تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 406

وَارِدُهَا کے یہ معنے ہیں کہ تم میں سے ہرشخص اس دوزخ میں داخل ہونے والا ہے۔مگر کفار تو اگلے جہاں کی دوزخ میں ڈالے جائیں گے اورمومنوں کو اس دنیا میں جو تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں وہ اس جہنم کا قائم مقام ہوجائیںگی اوراس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معنے بھی درست ہیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومنوں کو کافروں سے بہت زیادہ دنیاکی تکالیف پہنچتی ہیںبلکہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کاکو ئی شخص جتنا زیادہ پیا را ہوتاہے اتنی ہی زیادہ اسے دنیا کی تکلیفیں پہنچتی ہیں پس یہ معنے بھی صحیح ہیں۔احادیث میں بھی اس آیت پر بحث آئی ہے جس سے معلو م ہوتاہے کہ جو معنے میں نے کئے ہیں اور جو معنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئے ہیں وہ دونوں احادیث سے ثابت ہیں چنانچہ حضرت حفصہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ بدراور حدیبیہ کے صحابہ ؓ میں سے کوئی شخص دوزخ میں نہیں جائے گا۔حضرت حفصہؓ کہتی ہیں میں نے کہا یَارَسُوْلُ اللہِ وَ اَیْنَ قَوْلُ اللہِ تَعَالیٰ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا یعنی اگر یہ بات درست ہے تو پھر خدا تعالیٰ کا یہ قول کہاں گیا کہ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا یعنی اس میں تو یہ ذکر ہے کہ سب لوگ دوز خ میں جائیںگے اس پرآپ نے فرمایا مَہْ یعنی بس بس! جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیںکہ چپ بھی کر وہ آیت کہاں گئی کہ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا (مسلم کتاب فضائل اصحابہ بحوالہ تفسیر جامع البیان ) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہاںثُمَّ کے معنے اورکے ہیں۔ورنہ حضرت حفصہ ؓ کی بات کی تردید نہیں ہوتی بلکہ اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کیونکہ اگر اس کے یہ معنے کئے جائیںکہ پھر ہم متقیوںکو نجات دیں گے تواس کے معنے یہ بنتے ہیںکہ متقی بھی دوزخ میں ڈالے جائیںگے گویا وہی بات ثابت ہوجاتی ہے جو حضرت حفصہ ؓ نے کہی تھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کی تردید فرماتے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ آپ نے یہاںثُمَّ کے معنے اورکے کئے ہیں اور اسے ایک الگ جملہ قراردیاہے گویا نجات پانے والے وہ ہیں جو جہنم میں نہیں جائیںگے اور اگریہ الگ جملہ نہ ہو تو حضرت حفصہ ؓ کی بات ٹھیک ہوجاتی ہے۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا کو ایک الگ قول قراردیاہے اوریہ مرادلی ہے کہ ہم دوزخیوںکو دوزخ میں ڈالیں گے اورمومن کودوزخ میں ڈالے بغیر جنت میں لے جائیںگے۔زجاج کہتے ہیں کہ ایک دوسری آیت بھی اس مضمون کی تائید کرتی ہے کہ مومن دوزخ میں ڈالے بغیر جنت میں داخل کئے جائیں گے اور وہ آیت یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ (الانبیاء:۱۰۲)