تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 395

ہے جو کہتاہے کہ مرنے کے بعد ہم نے نہیں جینا اور ایک طبقہ ایسا ہے جو کہتاہے کہ ہم نے جینا ہے۔مگر جو طبقہ یہ کہتاہے کہ ہم نے مرنے کے بعد جینا ہے اس کی زندگی کے حالات میں کبھی کبھی اس خیال کی بھی جھلک آجاتی ہے۔کہ ہم نے نہیں جینا۔اور جو طبقہ یہ کہتاہے کہ ہم نے نہیں جینا اس کی زندگی کے حالات میں کبھی کبھی اس خیال کی بھی جھلک آجاتی ہے کہ ہم نے جینا ہے۔گویا جو ہاں کہتاہے اس پرنہ کا زمانہ آتا رہتاہے اور جو نہ کہتاہے اس پرہاں کا زمانہ آتا رہتاہے۔لیکن عام طور پر جہاں تک انسان کی اپنی زندگی کا سوال ہوتاہے وہ اسے اگلی زندگی کے خیالات سے متاثر کرنے کےلئے تیار نہیںہوتااور جہاں تک مرنےوالوں کے متعلق اپنے جذبات کے اظہار کا سوال ہوتاہے۔وہ ان کے لئے قربانی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔کیونکہ ان کےلئے اسے جو قربانی کرنی پڑتی ہے وہ اتنی زیادہ نہیں ہوتی صرف اتناہی ہوتاہے کہ کوئی مرگیا تو اس کے نام پر غرباء کو روٹی کھلادی یا کپڑے تقسیم کردئیے یا خیرات دے دی لیکن اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے لئے بہت بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔مثلاًسچ بولنا پڑتا ہے جھوٹ اور فریب سے بچنا پڑتا ہے۔نفسانی خواہشات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔خدا تعالیٰ کے احکام کو ماننا پڑتا ہے۔اور یہ کام ایسے ہیں جو قربانی چاہتے ہیں۔پس وہ ان کے لئے تیار نہیں ہوتا لیکن روٹی یا کپڑا دے دینا چونکہ اتنا بڑاکام نہیںہوتا۔اس لئے وہ ان کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا میں جس انسان کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ وہ کہتاہےمیں نے مرنے کے بعد زندہ نہیں ہونا بلکہ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا میں استفہامیہ رنگ اختیا ر کیا گیا ہے اور اس پر تعجب کا اظہا ر کیا گیا ہے۔یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہ ہونے پر متیقّن ہے۔بلکہ مرنے کے بعد کی زندگی کے متعلق وہ مترد د ہے اور کہتاہے کہ کیا جب میں مرجاوں گا تو ضرور زندہ کیاجائوںگا گویا اس کی شبہ والی کیفیت کو پیش کیا گیا ہے۔اس سے یہ مضمون نہیںنکلتاکہ وہ لازماًقیامت کا منکر ہے۔اوپر کی تمہید مَیں نے اسی لئے بیان کی تھی کہ دنیا کے عقائد دیکھ کر معلوم ہوتاہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کا کلی انکار بہت کم پایا جاتا ہے۔لیکن یقینی اقرار بھی بہت کم پایا جاتاہے۔لوگوں کا بہت سا حصہ ایساہے کہ خواہبعث بعدالموت کو وہ مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں ان کی حالت ہمیشہ تردّد والی رہتی ہے۔کہ ایسا ہونا ہے یا نہیں ہونا۔عیسائیوں میں مذہباًیہ بات پائی جاتی ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی انسان کو حاصل ہوگی چنانچہ حضرت مسیح ؑ نے ایک دفعہ یہودیوں سے اس کے متعلق بحث بھی کی۔یہودیوں میں دو گروہ پائے جاتے تھے۔ایک وہ جن کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد زندگی ہوتی ہے۔اور دوسرے وہ جن کا عقیدہ تھاکہ مرنے کے بعد زندگی نہیں ہوتی۔وہ