تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 327
انہوںنے تارہ کو زارَکہنا شروع کردیا اور زارَ سے آزَر بن گیا۔اور یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزر ان کے کسی اور عزیز کانام ہو بہر حال قرآن کریم چونکہ معرب نام استعمال کرتاہے اس لئے تارہ کی بجائے آزر ہونا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ تارہ اور آزر آپس میں معنوی اشتراک رکھتے ہوں ہمیں چونکہ تارہ کے معنے معلوم نہیں اس لئے ہم اس بارہ میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ممکن ہے اگر تحقیق کی جائے تو تارہ اور آزر آپس میں معنوی اشتراک بھی رکھتے ہوں۔بہر حال آزر ایک معرب نام ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ ان کو اپنے والد سے اختلاف ہوا تو وہ اسے چھوڑ کر مصر چلے گئے اور وہاں سے پھر واپس کنعان آگئے(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Abram) حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو اصرار تھا کہ آزر ان کے باپ کا نہیں بلکہ چچا کا نام تھا اور باپ فوت ہوچکا تھا۔بعض یہودی روایات سے بھی اس کا ثبوت ملتاہے کہ وہ یتیم تھے۔اَبْ کے متعلق آپ قرآن کریم سے استدلال کرتے تھے کہ چچا کے لئے بھی بولاجاتاہے چنانچہ ابناء یعقوب کے متعلق سورئہ بقرہ میں آتاہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ تم کس کی عبادت کروگے تو انہوں نے کہا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا(البقرۃ :۱۳۴) اس میں اسمٰعیل کو بھی انہوں نے اپنااَبْ قرار دیاہے حالانکہ وہ ان کے چچا تھے اس سے معلوم ہوتاہے کہ عربی زبان میں اَبْ کا لفظ چچاکےلئے بھی استعمال ہو سکتا ہے یہ سب کچھ درست ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایساہے ؟ حضرت خلیفہ اول ؓ کے اس خیال کی بڑی بنیاد یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنا بڑا مشرک ابراہیم کاباپ کس طرح ہوگیا یہ ایک ذوقی بات ہے۔ہو تو حرج نہیں ، نہ ہو توحر ج نہیںاصل میں ہمیں تاریخ پر بنیاد رکھنی چاہیے جو اس بارہ میں زیادہ تر اس شخص کے باپ ہونے پر ہی دلالت کرتی ہے باقی رہانام کا سوال سو قرآن عربی شکل میں نام دیتاہے یا معنوں کا ترجمہ کرتاہے پس بائبل کے تارہ اور قرآن کے آزر کا فرق قرآن کے بیان کو غلط نہیں بتاتا کہ ہمیں ان دوکو الگ الگ ہستیاں ثابت کرنےکی ضرورت ہو۔ابراہیم روحانی عالم کاباپ تھااور آئندہ اصلاح اس کی ذریت کے ساتھ خواہ جسمانی ہو خواہ روحانی مخصوص کی گئی تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ (العنکبوت:۲۸)یعنی ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطاکئے اور اس کی ذریت میں ہم نے نبوت اور کتاب رکھ دی۔گویا یہ وعدہ کیا کہ آئندہ نبی ابراہیم کی اولاد میں سے آئیں گے بائبل میں بھی اسحاق کے متعلق پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۵تا ۱۸میں وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کی نسل کو ترقی دی جائے گی اور زمین کی سب قومیں اس سے برکت پائیں