تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 326

کرلیا کہ یہ بے معنی لفظ ہے حالانکہ ابرام سے ابرہام میں تبدیلی کی وجہ خود بائبل نے بھی بتادی ہے کہ چونکہ تو ’’بہت قوموں کاباپ ‘‘ہوگا۔اس لئے آئندہ تیرانام ابرام ایک فرد نہیں ہوگا بلکہ ابراہام ہوگا اور یہ عبرانی کا قاعدہ ہے کہ ھا لگانے سے جمع بن جاتی ہے گویا وہ ایک فردنہ رہا بلکہ بہت سے افراد کا مجموعی ہوگیا۔قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے کہ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً(النحل :۱۲۱) ابراہیم ایک امت تھا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ وہ ابرام سے ابراہام بن گیا تھا گویا جو بات قرآن کریم نے بیان کی ہے وہی بات بائبل بھی بیان کرتی ہے مگر یہ جاہل لوگ جن کی زبان مٹ چکی ہے کہتے ہیں کہ ابرام کو ابراہام محض قافیہ بندی کے طور پر کہہ دیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذومعانی لفظ ہے او ربہت بڑی حقیقت پر دلالت کرتاہے۔یہ کہنا کہ یہ تو ایک مشرک نے نام رکھا تھایہ کوئی دلیل نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانام خدا نے نہیںرکھا لیکن اس نے نام رکھنے والوں کی زبانوں پر تصرف کردیا۔اور چاہے کوئی سچے مذہب کو نہ مانے اس حقیقت سے تو انکار نہیں کر سکتا کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت ہے۔اگر درخت خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے ہیں۔اگر آم کی گٹھلی خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے ہے اگر خربوزہ کی بیل خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے ہے تو ابراہیم کا باپ کیوں خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے نہیں تھا اور کیوں وہ اس سے ایسا نام نہیں رکھوا سکتا تھا جس میں ابراہیم کی آئندہ زندگی کے کارناموں کی طر ف اشارہ ہوتا۔پھر ابرام سے ابراہام اس لئے بنا کہ عبرانی زبان کا قاعدہ ہے کہ ھا لگانے سے جمع بنتی ہے اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ھا میں بھی اس کے مشابہ خصوصیت ہے۔چنانچہ عربی زبان میں ھم جمع کے لئے آتاہے پس یہ خیال کہ اس لفظ کے کوئی معنے نہیں اور ابرام کو ابراہام صرف ضلع جگت کے طور پر کہہ دیا گیاہے حقیقت لغت کے نہ جاننے کی وجہ سے پید اہوا ہے۔بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ ابراہیم اُور کے رہنے والے تھے جو چلڈیا کا ایک شہر تھا یعنی وہ عراق میں پیدا ہوئے۔ان کی قوم ستارہ پرست تھی ان کے والد کا نام تارہ تھا قرآن کریم نے سورئہ انعام میں ان کانام آزربتایا ہے (الانعام:۷۵) لیکن یہ تعجب کی بات نہیں ابراہام کو ابراہیم یسوع کو عیسیٰ حنوک کو ادریس اور یوحنا کو یحییٰ لکھنا اگر اعتراض کی بات نہیں تو تارہ کو آزر کہنا بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں ہوسکتی یہ صرف ان کے ناموں کو عربی بنانے کا نتیجہ ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ لگتاہے کہ وہ وہی نام استعمال کرتاہے جو عربوں کی زبان سے آسانی کے ساتھ ادا ہوسکیں اور یا پھر قرآن مجید اصل نام کا ترجمہ کرلیتا ہے جیسے حنوک کے جو معنے ہیں وہی معنے ادریس کے ہیں پس ہو سکتا ہے کہ تارہ سے قرآن نے آزر بنالیا ہو کیونکہ ت ،ز سے بدل جاتی ہے۔اور قلب کے ذریعہ الف پہلے آجاتا ہے اور اس طرح آزربن جاتاہے ہ ادب کے لئے ہے۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ عربوں کی زبان پر تارہ نہیں چڑھتاتھا