تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 312

نے کہا بات یہ ہے کہ جب میں اس جرنیل کے مقابلہ کےلئے نکلا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا تو یکدم مجھے یاد آیا کہ میںنے زرہ بکتر پہنی ہوئی ہے زرہ پہننے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تلوار بھی جسم پر اثر نہ کرے اور نیزہ بھی جسم پر اثر نہ کرے۔وہ لوہے کی ایک صدری ہوتی ہے اور اگر اچھی مضبوط زرہ ہو تو تلوار نہ صرف اسے کاٹ نہیں سکتی بلکہ زرہ پر لگنے کی وجہ سے خود خراب ہو جاتی ہے تو انہوں نے کہا آج صبح میں نے زرہ پہن لی تھی جو اس وقت بھی میں نے پہنی ہوئی تھی جب میں اس کے سامنے ہوا تو چونکہ یہ جرنیل نیز ہ زنی اور تلوار چلانے کا بڑا مشاق ہے اس لئے میرے دل نے کہا اے ضرار کیا تجھے خدا تعالیٰ کی ملاقات سے اتنی نفرت ہے کہ اس بہادر جرنیل کے سامنے تو زرہ پہن کر کھڑا ہوا ہے تاکہ تو مارا نہ جائے اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ اگر آج میں مارا گیا تو میرے لئے جہنم کے سوا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔کیونکہ خدا کہے گاکہ تجھے میرے ملنے کی خواہش نہیں تھی اگر خواہش ہوتی تو تو زرہ پہن کر کیوں لڑتا۔چنانچہ میں دوڑا اور اپنے خیمہ میں آیا تاکہ میں زرہ اتار دوں اور اگر اس لڑائی میں مارا جائوں تو اللہ تعالیٰ سے خوشی اور بشاشت کے ساتھ ملوں تو یوم عظیم وہی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی ملاقا ت ہو اور خدا تعالیٰ کی ملاقات وہی ہے جس سے خوشی اور سکون حاصل ہو۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہےفَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۔کتنی بدقسمتی ہے، کتنی بڑی لعنت کی بات ہے کہ ایک شخص خدا سے ملے مگر بجائے خوش ہونے کے اس کا دل چاہے کہ میں یہاں سے دور بھاگوں۔یہ ذلت اور رسوائی ان لوگوں کو اس لئے پہنچے گی کہ جس سے ان کو تعلق جوڑنا چاہیے تھا اس سے انہوں نے اپنا تعلق توڑا اور وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اور ادنیٰ غلام تھا اسے انہوں نے خدا کی جگہ پر بیٹھا دیا۔اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ جس دن وہ ہمارے حضور حاضر ہوںگے ان کی قوت شنوائی بہت تیز ہوگی اور نظریں بھی بہت تیز ہوںگی۔لیکن وہ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۰۰۳۹ ظالم آج بہت بھاری گمراہی میں مبتلا ہیں۔تفسیر۔اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْیہ عربی زبان کاایک محاورہ ہے اور عام طور پر ہمارے صرفی اور نحوی اس کے یہ معانی کرتے ہیں کہ’’ وہ کیا ہی خوب سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے ‘‘ لیکن بعض نحویوں نے کہا ہے کہ اَسْمِعْ وَ اَبْصِرْ کلمہ تعجب کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی امر کے طور پر استعمال ہوا ہے(املاء مامن بہ الرحمن زیر آیت ۳۹)۔پس