تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 311

میں الگ وجود ہے خدا بیٹا اپنی ذات میں الگ وجود ہے اور خدا روح القدس اپنی ذات میں الگ وجود ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ خود انہی میں سے یہ گروہ جو عیسیٰ کو ماننے والا ہے باوجود اتحاد مذہب اور اتحاد عقیدہ اور اتحاد عمل کے اختلا ف کا شکار ہو گیا۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ اس اختلاف کے نتیجہ میںلازماً ایک گروہ کے متعلق یہ ماننا پڑے گا کہ وہ حق پر ہے اور ایک کے متعلق یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ضلالت پر ہے چاہے دس گروہ ہو جائیں۔مگر بہرحال اختلاف کے نتیجہ میں دو فریق بن جائیں گے۔ایک حق پر ہو گا اور ایک باطل پر۔وہ لوگ جو باطل عقائد میں مبتلا ہو گئے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَیْلُ خدائے واحد نے اپنا ایک بندہ توحید کے قائم کرنے کے لئے بھیجا تھا مگر ان لوگوں نے اسی کو خد ابنا لیا۔یہ بہت بڑا جرم ہے جو ان سے سرزد ہوا پس ان پر عذاب اور لعنت ہے۔وَیْلٌ کے معنے عذاب کے بھی ہوتے ہیں اور وَیْلٌ کے معنے لعنت کے بھی ہوتے ہیں۔پس فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے ایک بڑے دن میں حاضر ہونے کا انکار کر دیا ان پر ہمارا عذاب نازل ہو گا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں دوری کا پیغام دیا جائے گا۔یوم عظیم کی انسان تمنا کیا کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس دن بدلے ملیں گے اور وہ کہتا ہے کاش اس دن مجھے بھی خدا نظر آجائے لیکن اگر وہ اس طرح نظر آئے کہ انسان اس کے سامنے مجرم کی طرح پیش ہو تو اس سے زیادہ ذلت اور بدقسمتی کی بات اور کیا ہو گی۔حضرت ضرار ؓ ایک جنگ میں شامل تھے۔قیصرکی فوجوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی تھی کہ اس کی طرف سے ایک جرنیل نکلا جس نے بہت سے مسلمان سپاہی مار ڈالے حضرت ابوعبیدہ ؓ جو اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف تھے انہوں نے ضرار کو بلایا اور کہا۔اب تم اس جرنیل کے مقابلہ کے لئے جائو۔وہ نکلے اور جرنیل کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے مگر یک دم انہوں نے اپنی پیٹھ موڑی اور خیمہ کی طرف بھاگ پڑے۔ان کا بھاگنا تھا کہ اسلامی لشکر میں مایوسی کی ایک لہر دوڑ گئی۔اور عیسائیوں نے خوشی سے نعرہ بلند کیا کہ اتنا بڑا آدمی ہمارے جرنیل کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر میدان سے بھاگ نکلا ہے۔حضرت ضرار جب واپس بھاگے تو کمانڈر انچیف نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جائو ضرار سے پتہ لو کہ کیا ہوا ہے اور وہ کیوں میدان سے بھاگا ہے؟ وہ شخص ان کے پاس پہنچا تو اس وقت ضرار اپنے خیمہ میں سے باہر نکل رہے تھے اس شخص نے کہا۔ضرار آج تم نے سب مسلمانوں کو ذلیل کر دیا ہے اور سب میں مایوسی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔کیونکہ تم اس جرنیل کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے بتائو تمہیں کیا ہوا تھا اور تم کیوں بھاگے؟ اس