تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 27
پیش کرتا ہے پس ع اور ص وہ صفات منبع ہیں جن کو اگر مانا جائے تو لازماً اسے کافی اور ہادی بھی ماننا پڑتا ہے۔اگر اسے ہادی نہ مانا جائے تو خدا تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔اور اگر اسے کافی نہ مانا جائے تو خدا تعالیٰ کا علیم ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔غرض ان مقطعات میں خدا تعالیٰ کی صفت کافی کو کفارہ کے مقابلہ میں اور صفت ہادی کو عیسائی نظریہ نجات کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے اور درحقیقت عیسائیوں کے یہی دو بنیادی مسئلے ہیں جن میں اسلام کے ساتھ ان کا ٹکرائو ہوتا ہے۔تثلیث ان مسائل کے تابع ہے۔اصل مسئلہ جس پر اسلام اور عیسائیت آپس میں ٹکراتے ہیں وہ کفارہ اور عدم نجات کا ہے۔عیسائیت نجات کو بالکل نہیں مانتی اور عیسائیت کفارہ کے بغیر کوئی روحانی ترقی تسلیم نہیں کرتی۔ان دو عقیدوں سے خدا تعالیٰ کی صفت کافی اور خدا تعالیٰ کی صفت ہادی باطل ہو جاتی ہیں۔اور ان دونوں صفات کے باطل ہونے سے اس کاعلیم اور صادق ہونا بھی باطل ہو جاتا ہے گویا عیسائیت کے ان ہر دو عقائد کو مان لینے سے خدا تعالیٰ کی خدائی باطل ہو جاتی ہے اور جب کسی مذہب کی تعلیم کے نتیجہ میں خدا کی خدائی باطل ہو جائے تو ہمیںیہی ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب خود باطل ہے کیونکہ مذہب خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے ساتھ ہی وابستہ ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیت کے بنیادی عقائد میں سے تثلیث بھی ایک اہم عقیدہ ہے لیکن ان کا یہ عقیدہ کفارہ اور نجات کے ساتھ اس طرح وابستہ ہے کہ اگر کفارہ اور عدم نجات باطل ہو جائیں تو ساتھ ہی تثلیث بھی باطل ہو جاتی ہے اور اگر تثلیث کو الگ کر لیا جائے تو کفارہ اور عدم نجات باطل ہو جاتے ہیں چنانچہ دیکھ لو عیسائیت کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کو نجات دلانے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے اکلوتے بیٹے مسیح کو دنیا میں کفارہ کے لئے بھیجا۔ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اس کے عدل کے خلاف ہے اگر وہ انسان کے گناہ معاف کر دیتا تو وہ عادل نہ رہتا لیکن چونکہ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ بنی نوع انسان نجات پا ئیں اس لئے اس نے اپنے بیٹے کو دنیا میں اس غرض کےلئے بھیجا کہ وہ پھانسی پر لٹک جائے اور اس کے پھانسی پر لٹک کر مر جانے کے نتیجہ میں وہ لوگ جو اس پر ایمان لائیں روحانی سزا سے بچ جائیں اور اس کا پھانسی پر لٹک کر مر جانا لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کفارہ بغیر تثلیث کے نہیںہو سکتا کیونکہ کفارہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی دی اور تین دن کے بعد اس کو زندہ کیا۔یہ چیز تبھی تسلیم کی جا سکتی ہے جب ایک سے زیادہ خدا ہوں۔اگر ایک سے زیادہ خدا نہ ہوںتو یہ بات ہو ہی نہیں سکتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو نعوذ باللہ پھانسی دے کر تین دن کے بعد اپنے آپ کو زندہ نہیں کر سکتا۔مگر تین خدائوں کو تسلیم کرنے کی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ