تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 305

بیٹا دنیا میں کیوں ہوا کرتا ہے؟ تمام دنیا پر غور کرکے دیکھ لو بیٹے کا قانون صرف انہی چیزوں میں جاری ہے جو اپنے کام کے ختم ہونے سے پہلے فنا ہو جاتی ہیں۔انسان کا کام دنیا میں موجود ہے۔لیکن وہ مر رہا ہے۔اس لئے اسے بیٹے کی ضرورت ہے۔بکروں کی ضرورت دنیا میں موجود ہے لیکن بکرے مر رہے ہیں اس لئے بکروں کی نسل کی ضرورت ہے پہاڑوں کی ضرورت دنیامیں موجود ہے لیکن پہاڑ بھی موجود ہیں وہ فنا نہیں ہو رہے اس لئے پہاڑوں کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔سورج کی ضرورت موجود ہے لیکن سورج بھی موجود ہے اس لئے سورج کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔چاند اور ستاروں کی دنیا کو ضرورت ہے۔پہلے بھی ضرورت تھی اور اب بھی ہے لیکن چاند اور ستارے بھی موجود ہیں۔وہ فنا نہیں ہو رہے اس لئے چاند اور ستاروں کے لئے کسی بیٹے کی ضرورت نہیں۔پس تناسل کا سلسلہ انہی چیزوں کے ساتھ چلتا ہے جو اپنی ضرورت سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اور جو چیزیں اپنی ضرورت تک جاری رہتی ہیںفنا نہیں ہوتیں ان میں تناسل کا سلسلہ بھی جاری نہیں۔اللہ تعالیٰ اسی دلیل کا اس جگہ ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے سُبْحٰنَہٗ۔اگر تم سوچنا شروع کرو کہ بیٹے کیا کی وجہ ہوا کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ بیٹا ہونے کی تین وجوہات ہوا کرتی ہیں۔اوّل شہوت نفسانی۔یعنی انسان کے اندر بعض مادے ایسے جمع ہو جاتے ہیں کہ اگر وہ رکے رہیں تو صحت کو نقصان پہنچانے کا موجب بن جاتے ہیں اس لئے ان کا نکالنا ضروری ہوتا ہے۔پس یا تو اپنی بیوی کے ذریعہ نکلیں گے اور یا وہ رؤیا شہوانی کے ماتحت نکل جائیں گے۔بہرحال نکل ضرور جائیں گے۔دوسرے ہر انسان کو ایک مونس اور غمگسار کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر مونس اور غمگسار ساتھی کے وہ آرام محسوس نہیں کرتا۔بائبل میں لکھا ہے کہ ہر قسم کے آراموں کے باوجود آدم افسردہ اور حیران پھرتا تھا تب خدا نے کہا کہ یہ بیوی کا محتاج ہے آئو ہم اس کی بیوی پیدا کریں چنانچہ خدا نے آدم کے لئے حوا پیدا کی اور اس کی پریشانی اور افسردگی دور ہوئی(پیدائش باب ۲ آیت ۱۸ تا ۲۲)۔پس جب انسان اپنی ذات میں خوش نہ رہ سکے اور اسے اطمینان حاصل نہ ہو تو اس کے لئے ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔تیسرے۔اسی طرح جب اپنے کام کے ختم ہونے سے پہلے کوئی فنا ہو جائے گا تو لازماً اسے ضرورت ہو گی کہ اس کا کوئی بیٹا ہو جو اس کے کام کے تسلسل کو جاری رکھے اور اس کے فنا ہونے کی وجہ سے کام کو نقصان نہ پہنچے۔یہ تین چیزیں ہیں جو بیٹے کی ضرورت کا بنیادی باعث ہوتی ہیں۔(۱) انسان کے اندر ایسے مادوں کا جمع ہو جانا جو اس کی صحت کو نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔(۲) انسان کے اندر ایسے ساتھی کی خواہش کا پایا جانا جس کے بغیر اسے اطمینان قلب حاصل نہیں ہو سکتا۔(۳) انسان کا اپنی ضرورت سے پہلے فنا ہو جانا اور یہ تینوں چیزیں نقص پر دلالت کرتی ہیں۔یہ ماننا کہ خدا تعالیٰ کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جس کا نکالنا ضروری ہوتا ہے اگر وہ نہ نکالے تو اس کی صحت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے نقص پر دلالت کرتا ہے۔یہ ماننا کہ خدا تعالیٰ کو اپنے کسی مونس اور غمگسار کے بغیر اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور وہ افسردہ رہتا ہے نقص پر دلالت کرتا ہے۔یہ ماننا کہ خدا وقت سے پہلے مرجائے گا اور اس لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو نقص پر دلالت کرتا ہے پس فرماتا ہے مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ۔اگر تم غور کرو کہ بیٹا کیوں ہوا کرتا ہے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ بعض زائد مادوں کا انسانی جسم میں جمع ہو جانا۔ساتھی کی خواہش اور موت۔یہ تین وجوہ ہیں جن کی بناء پر بیٹے کا تقاضا کیا جاتا ہے اور یہ تینوں نقص پر دلالت کرتی ہیں۔نہ کسی کامل ذات میں ایسے مادے جمع ہو سکتے ہیں جو اس کی صحت کو خراب کرنے والے ہوں۔نہ کسی کامل ذات کو اپنے لئے کسی مونس اور غمگسار ساتھی کی ضرورت ہو سکتی ہے اور نہ کسی کامل ذات پر موت آ سکتی ہے۔حالانکہ بیٹے کے لئے یہ تینوں باتیں ضروری ہیں۔