تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 26
نہیں دے سکتا۔اور اگر یہ دونوں باتیں درست ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی صفت علیم اور اس کا ظہور کافی یہ کفارہ کے خلاف ہیں اور خدا تعالیٰ کی صفت صادق اور اس کا ظہور ہادی شریعت کے لعنت ہونے اور مسیحی مسئلہ نجات کے خلاف ہیں۔اگر خدا تعالیٰ عالم یا علیم ہے تو مذہب میں کفارہ کی کوئی جگہ نہیں۔کیونکہ کفارہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سکیم کے ماتحت اس دنیا کو چلایا اور اپنے انبیاء لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے مگر آخر وہ سکیم ناکام ہوئی اور پھر واپس لوٹ کر خدا تعالیٰ کو اپنے بیٹے کی قربانی دینی پڑی۔اگر یہ درست ہے تو پھر نہ وہ علیم ہوا اور نہ کافی۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفت صادق اور اس کا ظہور ہادی اگر درست ہے تو عیسائیوں کا شریعت کو لعنت قرار دینا اور نجات کےلئے کفارہ کا مسئلہ ایجاد کر لینا بالکل غلط ہے۔کٓھٰیٰعٓصٓ میں عیسائیت کے مقابلہ کے لئے ایک بنیادی اصول غرض کٓھٰیٰعٓصٓ میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیت کے مقابلہ کے لئے ایک بنیادی اصول بیان فرما دیا ہے اور بتایا ہے کہ عیسائیوں سے صفات الٰہیہ کو مدنظر رکھ کر بحث کیا کرو اس کے نتیجہ میں ان کے تمام عقائد باطل ثابت ہو جائیں گے اگر خدا کافی ہے تو پھر یہ کہنا کہ شریعت میں انسان خود رستہ تجویز کر سکتا ہے یا شریعت لعنت ہے بیوقوفی کی بات ہے جو کافی ہے وہ رحمت ہے اور جوغیر کافی ہے وہ لعنت ہے۔اسی طرح جو صادق ہے اور جس کے اندر تمام سچائیاں پائی جاتی ہیں اگر اس کا وجود نجات نہیں دلا سکتا تو پھر کسی غیر صادق کا وجود کس طرح نجات دلا سکتا ہے۔نجات تو وہی دلائے گا جو صادق ہو گا جیسے حضرت دائودؑ نے کہا کہ ’’ اے خدا وند سچائی کے خدا تو نے مجھے مخلصی دی ہے‘‘ (زبور باب ۳۱آیت۵) غرض کھیعص میں عیسائیت اور اسلام کے مباحثات کا صحیح طریق بتایا گیا ہے اور مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اگر عیسائیوں سے مقابلہ کرو تو صفات الٰہیہ کی بنا ء پر کرو اور ان پر یہ امر واضح کر دو کہ تمہارے عقیدہ کو تسلیم کرلینے سے صفات باری باقی نہیں رہتیں اور جب عیسائیت کو ماننے سے صفات باری پر ہی زد پڑتی ہے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ خدا خدا نہ رہا اور یہ واضح بات ہے کہ سچا مذہب وہی ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں سے منوائے اور اس کی صفات پر ان کا ایمان قائم کرے۔جو مذہب خدا تعالیٰ کو ہی ختم کرتا اور اس کی صفات پر تبر رکھ دیتا ہے وہ سچا کس طرح ہو سکتا ہے۔غرض کافی اور ہادی یہ دو صفات ایسی ہیں جن کو اگر مدنظر رکھا جائے تو اسلامی تعلیم اور عیسائی تعلیم دونوں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں اور صاف طور پر پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور اسلام کیا کہتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے وجود کو کس رنگ میں پیش کرتے ہیں اور اسلام خدا تعالیٰ کے وجود کو کس رنگ میں