تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 291
دنیا میںآئے اور عظیم الشان کارنامے انہوں نے سرانجام دئے۔مگر اس کے بعد آہستہ آہستہ جب ایک لمبازمانہ آپ کی بعثت پر گزر گیا تو لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ پتہ نہیں موسیٰ سچا بھی تھا یا نہیں۔تب خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح ؑ آیا اور اس نے اعلان کیا کہ موسیٰ سچا تھا۔پس موسیٰ ؑ کو دوبارہ زندگی مسیح ناصری کے ذرئعی سے ملی۔اور یحییٰ ؑ اور مسیح ؑ کو دوبارہ زندگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ملی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ( ہود:۱۸) فرماتا ہے کیا یہ شخص جھوٹا ہو سکتا ہے جس کی زندگی میں ہی خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات جمع ہیں اور پھر موسیٰ کی خبریں اس کے متعلق پہلے سے موجود ہیں اور اس کی وفات کے بعد ہم ایک اور ماموربھیجیں گے جو اس امر کی تصدیق کرے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے گویا اس کا ماضی وہ ہے حال یہ ہے اور مستقبل یہ ہے کہ ہم خود آسمان سے ایسے آدمی بھیجتے رہیں گے جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی شہادت دیں گے اور گواہی دیں گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا سچا رسول ہے گویا یہ دوبارہ بعثت ہو گی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔اس لئے سورئہ جمعہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخرین میں مبعوث ہونے کا نام بھی بعثت ہی رکھا گیا ہے چنانچہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ( الجمعۃ :۳،۴) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں مقدر ہیں آپ کی ایک بعثت اولین میں ہوئی ہے اور آپ کی دوسری بعثت آخرین میں ہو گی۔يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا میں وہی بعثت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو سورئہ جمعہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال ہوا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی محاورہ میں بعثت کا لفظ اس موقعہ پر بھی استعمال ہوتا ہے جب کوئی نبی آئے اور وہ اپنے وجود کے ذیعہ کسی پہلے آنے والے نبی کو دوبارہ زندہ کر دے اور اس کی صداقت کو دنیا پرظاہر کر دے۔پس وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ۔۔۔۔۔۔۔۔يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا کے یہ معنی ہیں کہ جب کوئی دوسرا نبی اور مامور آئے گا اور وہ میری تصدیق کرے گا تو تم اس وقت سمجھ لو گے کہ جو باتیں میں کہہ رہا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہا ہوں۔وہ ایک غیرملک میں آئے گا اور غیر قوم میں سے آئے گا لیکن وہ کہے گا کہ میں سچا ہوں۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اورانہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی تصدیق کر دی اور وہ بات پوری ہوگئی جو انہوں نے کہی تھی کہ