تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 290

۱۹ مارچ ۵۳ء؁ کو نوٹس ملا اور ڈی۔ایس۔پی مجھے وہ نوٹس دینے کے لئے آیا تو میں نے اس سے کہا کہ میری گردن تمہارے گورنر کے ہاتھ میں ہے لیکن تمہارے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔تمہارے گورنر نے میرے ساتھ جو کرنا تھا وہ کر لیا اب میرا خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔جب وہ اٹھنے لگا تو میں نے پھر اسے کہاکہ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے جوش کی حالت میں نہیں کہا یہ ایک حقیقت ہے جو پوری ہو کر رہے گی اور جب میری یہ بات پوری ہو گی تو اس وقت میں تمہیں یاد دلائوں گا کہ میں نے گورنر کے متعلق جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔چنانچہ جب اس گورنر کوپنجاب سے رخصت کیا گیا تو میں نے اپنا آدمی اس کی طرف بھیجا اور کہا کہ تمہیں یاد رہے میں نے اس روز تمہیں کیا کہا تھا۔اس نے کہا مجھے خوب یاد ہے بلکہ میں دوسرے دوستوں سے بھی اس کا ذکر کرتا رہا ہوں۔پھر ایک شخص کے سامنے اس نے یہ بھی کہا کہ مجھے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری گردن پر بھی اپنا ہاتھ ڈالا ہوا ہے۔تو مرنے کو انسان مر جاتا ہے۔لیکن اگر کسی شخص کا نام زندہ رہتا ہے، اس کا کام زندہ رہتا ہے، اس کی تعلیم زندہ رہتی ہے، تو وہ مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے۔یہی حقیقت حضرت مسیح بیان فرماتے ہیں کہ وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ۔زندگی میں ہی نہیں میری موت کے بعد بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل ہو گی۔موت کے بعد انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔زندگی میں تودوسرے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بڑا چالاک تھا، بڑا ہوشیار اور فریبی تھا، اس نے اپنی چالاکی کی وجہ سے دنیا کو فتح کر لیا۔لیکن مرنے کے بعد چالاکی بھی ختم ہو جاتی ہے، دھوکا بازی بھی ختم ہو جاتی ہے، رسوخ اور اقتدار بھی ختم ہو جاتا ہے، خدمت خلق بھی ختم ہو جاتی ہے۔پھر تو خدا ہی کسی کا نام زندہ رکھنا چاہے تورکھ سکتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت یحییٰ ؑ بھی مر گئے، حضرت مسیح ؑ بھی مر گئے، مگر ان کے نام دنیا میں آج تک زندہ ہیں۔جب یہ دو باتیں پوری ہو چکی ہیں تو اب تیسری بات میںکیا شبہ رہا۔جب دو غیر ممکن باتیں ممکن ہو گئی ہیں تو تیسری بات کے سچا ہونے میں کسی کو کیا شبہ ہو سکتا ہے۔پس بے شک وہ زندگی نظر نہیںآتی مگر ان دو دعووں کو جو ویسے ہی ناممکن تھے خدا تعالیٰ نے اس کے ساتھ ملا دیا اور اس طرح بتادیا کہ جب یہ باتیںپوری ہو گئی ہیں تو وہ بات بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ علاوہ اس بعث کے جو مرنے کے بعد مقدر ہے ہر نبی کی ایک دوسری بعثت اس دنیا میں بھی ہوتی ہے اور ہرنبی اپنے بعد میں آنے والے ایک اَور نبی کی شکل میںدنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ہر سچے نبی کے بعد ایک اَور نبی مبعوث ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ فلاںنبی سچا تھا اور اس طرح اس پہلے نبی کی سچائی دنیا میں دوبارہ قائم کی جاتی ہے اور اس کی شہادت کے ذریعہ اسے دوبارہ سلامتی ملتی ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام