تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 288
مگر آج سارے مسلمان کہتے ہیں کہ یحییٰ علیہ السلام۔وہ قرآن میں جب بھی یہ پڑھتے ہیں وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا تو حضرت یحییٰ ؑ کا ذکر تازہ ہوجاتا ہے۔ان کی زندگی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور محبت اور احترام کے جذبات ان کے متعلق پیدا ہو جاتے ہیں۔پس باوجود موت کے وہ زندہ ہیںاور قیامت تک زندہ رہیں گے یہی حال حضرت مسیح ؑ کا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسیح ؑ کے ماننے والے دنیا میں موجود ہیں لیکن حقیقتاً وہ اب ان کے ذریعہ زندہ نہیں۔کیونکہ وہ مسیح کو نہیں بلکہ خدا کے بیٹے کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اصل میں مسیح اگر زندہ ہے تو اسلام کے ذریعہ سے۔مسیح ؑ زندہ ہے قرآن کے ذریعہ سے۔مسیح ؑ زندہ ہے ہماری جماعت کے ذریعہ سے۔کیونکہ اسلام اور قرآن ہی ہیں جو حقیقی مسیح کو دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔پس اس سلامتی سے مراد یہ ہے کہ یحییٰ ؑ اور مسیح ؑ کا نام دنیا میں زندہ رہے گا۔ان کی سچی تعلیم دنیا میں قائم رہے گی۔وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے اور پھر قرآن اور اسلام کے ذریعہ ایک دائمی حیات کے وارث ہوں گے۔آگے حضرت یحییٰ ؑ کے متعلق آتا ہے کہ ان پر اس دن بھی سلامتی ہو گی يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا اور حضرت مسیح ؑ بھی کہتے ہیں کہ وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا۔اب سوال پیدا ہوتاہے کہ اس سلامتی کا ثبوت کیا ہے اور کون جا کر دیکھے گا کہ اس دن ان پر سلامتی نازل ہوتی ہے یا نہیں۔اس طرح تو ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ جب میں مرنے کے بعد اٹھوں گا تو مجھے یہ یہ مدارج ملیں گے اور ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم تحقیق کرکے فیصلہ کر سکیں کہ کہنے والے کی بات صحیح ہے یا غلط۔اس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ کہنے والے کی ہر بات کو اس کی سابق اور گزشتہ باتوں پر قیاس کیا جاتا ہے اور پھر ایک نتیجہ نکال لیا جاتا ہے یہ قانون دنیا میں ہر جگہ جاری ہے اور قرآن کریم نے بھی بعث بعدالموت کے ثبوت میں اسے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین سے کہا ہے کہ تم ان پیشگوئیوں پر غور کرو جو تمہاری تباہی اور اسلام کی ترقی کے متعلق کی گئی ہیں اور جن کے ساتھ اگلے جہان سے تعلق رکھنے والے بعض وعدے وابستہ کر دئیے گئے ہیں۔ان دنیوی ترقیات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں پر غور کرکے تم سمجھ سکتے ہو کہ جب وہ باتیںپوری ہو رہی ہیں جن کے متعلق کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی تھی کہ پوری ہو جائیں گی۔تو اسی پر قیاس کرکے تم یہ بھی سمجھ سکتے ہو کہ آخرت کے متعلق ہماری طرف سے جو خبریں دی گئی ہیں وہ بھی ایک دن پوری ہو کر رہیں گی۔یہی دلیل اس مقام پر دی گئی ہے اور تیسری بات کے ذکرسے پہلے دو اور باتیں بیان کی گئی ہیں جو اس دنیا کی