تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 287

چاہیے تھا یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ ساری عمر موت سے محفوظ رہیں گے لیکن جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ اس کی موت کے وقت بھی سلامتی ہو گی تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ خدا تعالیٰ فنا ہونے کی نفی نہیں کر رہا اور جب اس نے فنا ہونے کی نفی نہیں کی تو پھر موت خواہ کسی آدمی کے ہاتھ سے ہو یا فرشتہ کے ہاتھ سے، بات ایک ہی ہے۔پاس اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا۔بہرحال کوئی ایسا مطلب ہونا چاہیے کہ موت کے باوجود یحییٰ ؑ اور مسیح ؑ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو اور وہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جس مقصد کو لے کر وہ دنیا میں کھڑے ہوئے تھے اور جس مدعا کے حصول کے لئے ان کی دنیا میں بعثت ہوئی تھی اس مقصد اور مدعا کے راستہ میں ان کی موت حائل نہیں ہو گی۔وہ مر جائیں گے مگر ان کا نام زندہ رہے گا۔وہ مر جائیں گے مگر ان کا کام زندہ رہے گااور اس طرح ان کی موت بھی سلامتی والی موت ہو گی اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر موت کے باوجود کسی شخص کا پیغام رکا نہیں۔اگر موت نے اس کے کام کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ جاری ہو گیا ہے تو یقیناً اس کی موت سلامتی والی ہے اور اگر موت کے ساتھ ہی اس کا کام بھی فنا ہو گیا ہے اور اس کا نام بھی مٹ گیاہے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ اس کی موت ہلاکت اور بربادی والی موت ہے۔لیکن اگرموت کے بعد بھی کسی کا کام جاری رہے تو ہم اس کو مردہ نہیں کہہ سکتے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ مامون نے اپنے دو بیٹوں کو فراء کے پاس جو ایک مشہورنحوی گزرے ہیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بٹھایا۔ایک دن فراء کسی کام کے لئے اٹھا تو دونوں شہزادے دوڑ پڑے تاکہ استاد کے سامنے اس کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھیں مگر چونکہ دونوں اکٹھے پہنچے تھے اس لئے ان کا آپس میں جھگڑا شروع ہو گیا۔ایک کہتا تھا میں ان کے آگے جوتیاں رکھوں گا اور دوسرا کہتا تھا میں رکھوں گا۔آخر دونوں نے ایک ایک جوتی اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دی۔جب مامون کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے فراء سے کہا کہ مَاھَلَکَ مَنْ خَلَفَ مِثْلُکَ۔جس شخص کے ایسے شاگرد باقی رہ جائیں جو اس کا اتنا ادب اور احترا م کرنے والے ہوں وہ کبھی مر نہیں سکتا(تاریخ بغدادی للبغدادی جلد ۱۴ صفحہ ۱۵۰)۔اسی طرح جس شخص کی جماعت دنیا میں قائم رہے۔جس کے نام لیوا دنیامیں موجود ہوں جو اس کے نام اور کام کو زندہ رکھنے والے ہوں اس کی موت سلامتی والی موت کہلائے گی۔کیونکہ موت تو آئی مگر موت نے اس کے کاموں میں تعطل پیدا نہیں کیا۔پس جب ہم یہ کہیں گے کہ فلاں کی موت سلامتی والی ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ وہ کسی انسان کے ہاتھ سے مر نہیں سکتا۔کیونکہ جب انسان مر گیا تو چاہے کسی طرح مرا اس سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔سلامتی والی موت وہ کہلاتی ہے۔جس موت کے بعد بھی انسان کا نام زندہ رہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے چنانچہ دیکھ لو حضرت یحییٰ علیہ السلام مر گئے۔ان کی جماعت کا وجود تک باقی نہیں رہا