تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 286

رہے گا۔پس گو زبان سے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے خدا نے کہا ہے کہ مجھ پر سلامتی ہو گی۔لیکن بہرحال یہ امر ظاہر ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ نے ہی بتایا ہو گا تبھی انہوں نے لوگوں سے یہ بات کہی۔مگر انہوںنے اس سلامتی کو اپنی طرف منسوب کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ان میں کُنْ فَیَکُوْنُ والی طاقت پائی جاتی تھی کہ میرے اوپر سلامتی ہو گی اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس سلامتی سے محروم نہیں کر سکے گی۔اس تقابل سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی سلامتی والی بتائی گئی ہے اور حضرت مسیح کی پیدائش بھی سلامتی والی بتائی گئی ہے۔اب اگر اس کے صرف اتنے ہی معنے ہوں کہ یحییٰ بھی بچ جائیں گے اور مسیح بھی بچ جائے گا تو اس میں یحییٰ ؑ اور مسیح ؑ کی کوئی خاص خصوصیت نظر نہیں آتی اس طرح تو جتنے بچے زندہ رہتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی سلامتی کے نتیجہ میں ہی زندہ رہتے ہیں۔درحقیقت ان الفاظ سے بتانا یہ مدنظر ہے کہ ان دونوں کی پیدائش اپنے ساتھ الٰہی نشان رکھنے والی ہو گی۔گویا سلامتی یہ نہیں کہ ان کو جسمانی لحاظ سے سلامتی حاصل ہو گی اور یہ زندہ رہیں گے۔وہ تو جو بچہ بھی زندہ رہتاہے خدا تعالیٰ کی سلامتی کی وجہ سے ہی زندہ رہتا ہے۔ان دونوں کے متعلق خصوصیت سے یہ کہنا کہ ان کی پیدائش سلامتی والی ہو گی بتاتا تھا کہ ان کے ذریعہ دنیا پر سلامتی نازل ہو گی یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات لے کر آئیں گے کہ ان کی پیدائش دنیا کو کفر سے نجات دینے والی ہو گی، ان کی پیدائش دنیا کو بے ایمانی سے نجات دینے والی ہو گی۔جو بھی یحییٰ کی معجزانہ پیدائش اور اس کے کارناموں کو دیکھے گا اور جو بھی عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور اس کے حیرت انگیز کاموں کا مشاہدہ کرے گا اور اس تغیر کو دیکھے گا جو انہوں نے دنیا میں پیدا کیا اور ان نشانات کودیکھے گا جو ان کے ذریعہ ظاہر ہوئے اس کا ایمان تازہ ہو گا۔اس کا کفر دور ہو گا۔اس کی بے ایمانی اس سے جاتی رہے گی شکوک و شبہات اور وساوس کی تاریکیاں دور ہو جائیں گی خدا کا نور اس کی آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہو گا اوروہ سمجھے گا کہ ہمارا خدا بڑا قادر خدا ہے۔پس ایک تو یحییٰ ؑ اور مسیح ؑ کی پیدائش کو خدا تعالیٰ نے سلامتی والا قرار دیا۔پھر فرمایا کہ یحییٰ کی موت بھی سلامتی والی ہو گی اور مسیح ؑ کی موت بھی سلامتی والی ہو گی۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ان کی موت انسانی دخل سے پاک ہو گی جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اس جگہ سلامتی کا لفظ آتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے۔حالانکہ کوئی شخص شہادت حاصل کرے یا طبعی طور پر وفات پائے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔جب اس نے مرنا ہی ہے تو پھر وہ کسی طرح مر جائے بات ایک ہی ہو گی۔یا تو اس کا یہ مطلب ہوتا کہ وہ موت سے محفوظ رہیں گے اور اگر انہوں نے موت سے ہی محفوظ رہنا تھا تو پھر اَمُوْتُ کا لفظ نہیں آنا