تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 25
پہلے ہم خدا تعالیٰ کی صفت علم کو لیتے ہیں انجیل میں لکھا ہے۔’’ لیکن اس دن اور اس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتوں تک کوئی نہیں جانتا۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۳۶) یہ حوالہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں علم کی مختلف مقداریں ہیں کوئی مقدار علم ایسی ہے جسے انسان جانتا ہے۔کوئی مقدار علم ایسی ہے جسے فرشتے جانتے ہیں اور کوئی مقدار علم ایسی ہے جسے نہ انسان جانتا ہے نہ فرشتے جانتے ہیں صرف خدا جانتا ہے۔گویا علم کامل صرف خدا تعالیٰ کی ذات سے مختص ہے اور جب علم کامل اسی میں ہو تو لازماً اسے کافی بھی ماننا پڑا۔پھر لکھا ہے۔’’ خدا وند نے دانائی سے زمین کی بنیاد کی اور عقلمندی سے آسمان آراستہ کیا۔اس کی دانش سے گہرائیاں پھوٹ نکلیں اور آسمان سے اوس کی بوندیں ٹپکیں۔(امثال باب۳ آیت ۱۹و ۲۰) یعنی خدا نے علم پر قانون قدرت کی بنیاد رکھی اور اسے آراستہ کیا اور پھر اس کے بعد جو بھی علم پیدا ہوتا ہے خواہ وہ روحانی یا جسمانی اس کے علم سے نکلتا ہے کیونکہ لکھا ہے’’ اس کی دانش سے گہرائیاں پھوٹ نکلیں ‘‘ اس کے بعد ’’ آسمان سے اوس کی بوندیں ٹپکیں ‘‘یعنی خدا تعالیٰ نے علم کو اتنا کامل کیا کہ آسمان بھی انسان کی ہدایت کے لئے ٹپک پڑا یعنی الہام اور کلام الٰہی نازل ہوا اور اس نے علم کو ہر رنگ میں مکمل کر دیا۔یہ حوالہ بتاتا ہے کہ ہدایت ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور وہی کامل ہدایت ہوتی ہے کیونکہ ایک علیم ہستی اس کے پیچھے ہوتی ہے انسان اپنی طرف سے کچھ نہیں کر سکتا۔پھر صدق کے متعلق لکھا ہے۔’’ اے خداوند سچائی کے خدا تو نے مجھے مخلصی دی ہے۔‘‘ (زبور باب ۳۱ آیت۵) اس سے ظاہر ہے کہ مخلصی یعنی نجات کا واسطہ ’’خداوند سچائی‘‘ کے خدا کے ساتھ ہے جس طرح شریعت کا واسطہ ایک علیم ہستی کے ساتھ ہے پھر لکھا ہے۔’’ تیری صداقت ابدی صداقت ہے اور تیری شریعت حق ہے‘‘ (زبور باب ۱۱۹ آیت ۱۴۲) گویابائبل اور انجیل دونوں سے یہ ثابت ہے کہ علم کامل صرف خدا تعالیٰ کو حاصل ہے اور صداقت کاملہ بھی اسی کو حاصل ہے اور جب بائبل کے نزدیک علیم اور صادق صرف خدا تعالیٰ کا ہی وجود ہے تو عیسائیوں کے لئے اس امر کے تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا۔کہ سوائے علیم کے کوئی کافی نہیں ہو سکتا اور سوائے صادق کے کوئی نجات