تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 24
مطعم ہونا تقاضا کرتا ہے کہ وہ رازق بھی ہو۔تو بعض صفات ابتدائی اور منبع کے طور پر ہوتی ہیں اور بعض تابع صفات ہوتی ہیں۔یہاں ک اور ھاء کی صفات تابع ہیں اور ع اور ص کی صفات منبع کے طور پر ہیں اور کٓھٰیٰعٓصٓ کے یہ معنے ہیں کہ یَا عَلِیْمُ یَا صَادِقُ اَنْتَ کَافٍ وَ اَنْتَ ھَادٍ اے علیم اور صادق خدا تو کافی اور ہادی ہے۔گویا کافی اور ہادی تابع صفات ہیں اور علیم اور صادق اصل صفات ہیں یعنی خدا تعالیٰ کے علیم اور صادق ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ خدا کافی بھی ہو اور خدا ہادی بھی ہو۔گویااس جگہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ کہتا ہے کہ تم خدا سے یہ کہو کہ کٓھٰیٰعٓصٓ اے میرے علیم اور صادق خدا میں مانتا ہوں کہ تو علیم ہونے کی وجہ سے کافی ہے اور صادق ہونے کی وجہ سے ہادی ہے جب تو علیم ہے تو ضروری ہے کہ تو کافی بھی ہو اور جب تو صادق ہے تو ضروری ہے کہ تو ہادی بھی ہو اور یہ بات عقلی طور پر بھی ظاہر ہے۔مثلاً جب کوئی شخص عالم ہو گا تو لازماً وہ کافی بھی ہو گا جیسے علاج کے لئے تشخیص کامل کی ضرورت ہوتی ہے اور تشخیص کامل کے لئے علم کامل کی ضرورت ہوتی ہے۔جس شخص کو معالجات سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں معلوم نہیں وہ علاج نہیں کر سکتا اور جس کو معلوم ہوں و ہ لازماً صحیح علاج بھی کر سکے گا۔پس یہ ایک واضح امر ہے کہ جو علیم ہوگا وہ کافی بھی ہوگا کیونکہ علم ہی کفایت کرتا ہے نہ کہ جہالت۔دنیا میں دو ہی قانون جاری ہیں۔ایک قانون قدرت اور دوسرا قانون شریعت ، قانون قدرت میںبھی کامل راہنمائی وہی کر سکتا ہے جو علیم ہو۔جیسے وہی ڈاکٹر کامیاب ہو سکتا ہے جو بڑا جاننے والا ہو اور قانون شریعت میں بھی وہی وجود کامل راہنمائی کر سکتا ہے جو علیم ہو جو وجود ہماری جسمانی ضرورتوں کا علم نہیں رکھتا یا ہماری روحانی ضرورتوں کا علم نہیں رکھتا وہ ہمیں صحیح نسخہ بھی نہیں بتا سکتا۔پس علیم کے لئے ضروری ہے کہ وہ کافی ہو۔اسی طرح جو صادق ہو گا وہی صحیح ہادی بھی ہوگا کیونکہ جھوٹ اور غلطی گمراہ کرنے والی چیز یں ہیں اور ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ صادق ہو۔پس وہی ہادی ہو سکتا ہے جو صادق ہو بلکہ تمام صداقتوں کا منبع ہو۔اس کے سوا ہر جگہ کی ہدایت مشتبہ اور ناقابل قبول ہو گی۔غرض جب کوئی شخص یہ مانے گا کہ کوئی ہستی علیم ہے تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صفت کافی بھی اس میں پائی جاتی ہے اور جب کوئی شخص یہ مانے گا کہ کوئی ہستی صادق ہے تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صفت ہادی بھی اس میں پائی جاتی ہے اور اگر یہ دو اصول درست ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہودی مذہب جو بنیاد ہے عیسائیت کی وہ خدا تعالیٰ کو علیم بھی سمجھتا ہے اور صادق بھی سمجھتا ہے تو لازماً ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کافی بھی ہے اور خدا تعالیٰ ہادی بھی ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل اس بارہ میں کیا کہتی ہے۔