تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 275
کہاکہ تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں وے بولے سات اور کئی ایک چھوٹی مچھلی۔تب اس نے جماعتوں کو حکم کیا کہ زمین پر بیٹھ جاویں۔پھر ان سات روٹیوں اور مچھلیوں کو لے کر شکر کیا اور توڑ کر اپنے شاگردوں کو دیا اور شاگردوں نے لوگوں کو۔اور سب کھا کے آسودہ ہوئے اور ٹکڑوں سے جو بچ رہے تھے انہوں نے سات ٹوکریاں بھر کر اٹھائیں اور کھانے والے سوا عورتوں اور لڑکوں کے چارہزار مرد تھے اور جماعتوں کو رخصت کرکے کشتی پر چڑھا اور مگدلا کی اطراف میں آیا۔‘‘ (انجیل متی باب۱۵ آیت ۳۲ تا ۳۹ ) بائبل کے بیان میں ہمیشہ مبالغہ ہوتا ہے ممکن ہے چار پانچ ہی آدمی ہوں جنہیں چار ہزار کہہ دیا گیا ہو جیسے سکھوں کی عادت ہے کہ ایک آدمی بھی آ جائے اور وہ دروازہ کھٹکھٹائے۔تو اندر والا پوچھتا ہے۔باہر کون ہے؟ اس پرباہر والا جواب دیتا ہے’’فوجاں‘‘ وہ پوچھتا ہے کتنی؟ وہ جواب دیتا ہے سوا لاکھ۔جس طرح سکھ ایک آدمی کو سوا لاکھ کہہ دیتے ہیں۔اسی طرح بائبل کے لکھنے والے بھی تعداد میں خوب مبالغہ کرتے ہیں۔موسیٰ کی قوم کی تعداد بتائی گئی ہے تو اس میں اتنا مبالغہ کیا گیا ہے کہ کوئی حد ہی نہیں۔حالانکہ وہ کوئی بڑی قوم نہیں تھی۔اسی طرح اس واقعہ میں بھی خوب مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔مگر بہرحال ا س سے ظاہر ہے کہ بھوکوں کو روٹی کھلانے کا جذبہ اس کے اندر موجود تھا اور وہ غریبوں اور بھوکوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا۔یہی واقعہ دوسری جگہوں میں بھی آتا ہے۔پھر حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ بَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کا ذکر لوقا باب ۲ آیت ۵۱ میں آتا ہے جہاں لکھا ہے۔’’اور وہ ان کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرؔت میں آیا اور ان کے تابع رہا اور اس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دل میں رکھیں۔‘‘ یعنی مسیح اپنی ماںکی اطاعت کرتا تھا۔لیکن جہاں لوقا نے یہ لکھا ہے کہ وہ اپنی ماں کا تابع رہا وہاں باقی سب انجیل نویسوں نے لکھا ہے کہ وہ عملاً اپنی ماں کے احکام کو توڑتا رہا۔کسی جگہ اس نے سختی سے اپنی ماں کو ڈانٹا کسی جگہ یہ کہا کہ میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔کسی جگہ یہ کہا کہ تم چلے جائو میں تمہارے پیچھے آنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن قرآن ہر جگہ یہی بتاتا ہے کہ وہ اپنی ماں کا فرمانبردار تھا اور اس نے ہمیشہ اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔پھر فرماتا ہے وَ لَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا اس نے مجھے جبار اور شقی نہیں بنایا۔جبار کا لفظ اضداد میں سے ہے۔یعنی اس کے ایک معنے ٹوٹے ہوئے کی اصلاح کرنے والے کے ہیں اور اس کے ایک معنے دوسرے کا حق مار کر اور